امریکا کی سیکرٹ سروس نے ایک مسلمان میئر کو وائٹ ہاؤس میں منعقدہ عید پارٹی میں شرکت سے روک دیا۔قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی سیکرٹ سروس نے مسلمان میئر محمد خیر اللہ کو وائٹ ہاؤس میں تاخیر سے ہونے والی عیدالفطر کی پارٹی میں شرکت سے روک دیا گیا جہاں صدر جو بائیڈن بھی شریک تھے۔رپورٹ کے مطابق پیر (یکم مئی) کو عیدالفطر کی تقریب کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچنے سے کچھ دیر قبل میئر محمد خیر اللہ نے بتایا کہ انھیں وائٹ ہاؤس سے ایک کال موصول ہوئی جس میں کہا گیا کہ انھیں سیکرٹ سروس نے تقریب میں شرکت سے روک دیا ہے اور وہ تقریب میں شرکت نہیں کر سکتے جہاں صدر جو بائیڈن نے سیکڑوں مہمانوں سے بات چیت کر رہے تھے۔47 سالہ میئر نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کے عہدیدار نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ سیکرٹ سروس نے ان کا داخلہ کیوں روکا تھا۔میئر نے وائٹ ہاؤس میں منعقدہ عید تقریب میں شرکت سے روکنے پر کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے نیو جرسی چیپٹر کو آگاہ کیا۔خیال رہے کہ میئر محمد خیر اللہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مسلمان ممالک کے شہریوں کی امریکا میں آمد پر پابندے کے اقدام پر سخت تنقید کرتے تھے۔علاوہ ازیں انہوں نے شامی امریکی میڈیکل سوسائٹی اور وطن فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر انسانی امداد کے لیے کام کرنے کے سلسلے میں شام اور بنگلہ دیش کا دورہ بھی کیا تھا۔رپورٹ کے مطابق میئر نے ٹیلی فون پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل نے مجھے حیران اور مایوس کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ معاملہ یہ نہیں ہے کہ مجھے پارٹی میں نہیں جانا پڑا، اسی لیے میں نہیں گیا لیکن یہ مسلسل مجھے میری شناخت کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ امریکا میں اعلیٰ ترین دفتر کو اس طرح کی پروفائلنگ کرنی چاہیے۔ادھر سیکرٹ سروس کے ترجمان نے تصدیق کی کہ میئر کو وائٹ ہاؤس میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی لیکن اس بات سے انکار کیا کہ ایسا کیوں ہوا۔ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہمیں اس عمل کی وجہ سے ہونے والی تکلیف پر افسوس ہے، لیکن میئر کو آج شام وائٹ ہاؤس کمپلیکس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی، لیکن بدقسمتی سے، ہم وائٹ ہاؤس میں اپنی حفاظتی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جانے والے مخصوص ذرائع اور طریقوں پر مزید بات نہیں کر سکتے۔ ’ میئر نے کہا کہ اس سے قبل 2019 میں انہیں نیو یارک کے ایک ایئرپورٹ پر روکا گیا تھا اور تین گھنٹوں تک پوچھ گچھ ہوتی رہی کہ کیا میں کسی دہشت گرد کو جانتا ہوں۔میئر نے کہا کہ ایک اور موقع پر جب وہ اپنے خاندان کے ساتھ ملک واپس آرہے تھے تو انہیں امریکی-کینیڈا سرحد پر مختصر وقت کے لیے رکھا گیا تھا۔واضح رہے محمد خیر اللہ شام میں پیدا ہوئے تھے لیکن ان کا خاندان 1980 کی دہائی میں حکومتی کریک ڈاؤن میں بے گھر ہوگیا تھا جس کے بعد ان کا خاندان 1991 میں نیو جرسی منتقل ہونے سے پہلے سعودی عرب فرار ہوگئے تھے۔محمد خیر اللہ 2000 میں امریکی شہری بنے اور 2001 میں بطور میئر اپنی پہلی مدت کے لیے منتخب ہوئے تھے۔










