امریکا نے کہا کہ طالبان معاہدے پر عملدرآمد نہیں کررہے، تاہم مئی تک فوجیں واپس نہیں جائیں گی، جس پر طالبان کا بھی جنگ بندی کرنے سے انکار، معاہدہ ختم ہونے کی ساری ذمہ داری افغان حکومت پرڈال دی گئی، غیرملکی میڈیا
واشنگٹن (۔ 29 جنوری 2021ء) افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ ختم ہوگیا ہے، امریکا نے کہا کہ یہ معاہدے پر عملدرآمد نہیں کررہے، تاہم مئی تک فوجیں واپس نہیں جائیں گی، جبکہ طالبان نے بھی جنگ بندی کرنے سے انکار کردیا، معاہدہ ختم ہونے کی ساری ذمہ داری افغان حکومت پرڈال دی گئی۔ سی ا ین این کے مطابق ترجمان پینٹا گون کا میڈیا بریفنگ میں کہنا ہے کہ امریکا کی جوبائیڈن حکومت مئی میں افغانستان سے مکمل طور پر فوجی انخلاء کا کوئی وعدہ نہیں کرے گی۔امریکا مئی تک افغانستان سے اپنی فوجیں واپس نہیں لے کر جائے گا، کیونکہ طالبان نے امریکا کے ساتھ معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔ افغان طالبان کے ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت فروری 2020 میں امعاہدے دستخط کیے گئے تھے، معاہدے میں طالبان کے ساتھ پرتشدد اور دہشتگردی کی کاروائیوں کو روکنے اور کالعدم تنظیموں سے تعلقات منقطع کرنے کا طے پایا تھا۔معاہدے پر عملدرآمد کی صورت میں امریکی فوج کا مئی تک افغانستان سے انخلاء ہوجائے گا، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار چھوڑنے سے چند روز قبل ہی افغانستان میں امریکی فوج کی تعداد 2500 کم ہو گئی تھی۔ لیکن اب امریکا نے اعلان کیا ہے کہ مئی2021ء تک فوجیں وہاں موجود رہیں گی۔ ترجمان پینٹاگون نے کہا ہے کہ طالبان نے دہشتگرد کاروائیاں اور افغان نیشنل سکیورٹی فورسز پر حملے روکنے کیلئے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا ہے۔جس کے باعث مذاکرات کو آگے بڑھانا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے باوجود امریکا افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کیلئے پرعزم ہے۔ اسی طرح افغانستان میں امن کے لیے بین الافغان مذاکرات 12 ستمبر 2020ء کو دوحہ قطر میں شروع ہوئے تھے۔ بین الافغان مذاکرات فریقوں کے درمیان یہ اہم براہ راست مذاکرات افغانستان میں دائمی امن لانے کی جانب پیش قدمی کی علامت قرار دیا گیا۔ امن مذاکرات کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ یہ تاریخی لمحہ اور افغانستان کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ 40 برس سے جاری جنگ اور خونریزی ختم کرے۔ افغان حکومت نے طالبان کے چھ اہم قیدی رہا کر دیے۔










