تحریر:۔ حسن ساہوؔ
امام خمینیؒ ایک ایسے عظیم انقلاب کے موجود وبانی تھے جنہوں نے شہنشاہوں کے2500سالہ اقتدار کا یکسر خاتمہ کردیا۔ اُنہوں نے اپنی بے لوث وپُرخلوص قیادت کے بل پر امریکہ، روس اور دیگر عالمی طاقتوں کے اثر ورسوخ کو ختم کرکے اسلامی معاشرے کو پاک وصاف کرانے کی جدوجہد آخری دم تک جاری رکھی۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے سرزمین ایران کے کلمہ گو نوجوان اور بزرگ مع خواتین جن کے سینوں میں جوش وخروش اور انقلابی لہر موجزن تھی، عیش وآرام چھوڑ کے سڑکوں پر نکل آئے۔ اُنہوں نے شاہی لوازمات کو ٹھکرائے، امام خمینیؒ کے فرمان کو دلوں سے لگائے، سلطنتی نظام کے خاتمے اور اسلامی حکومت کے قیام کا نعرہ بلند کیا۔ الغرض پر خلوص اور دیانتدارانہ قیادت کے زیر اثر خوابیدہ قوم کو اسلام انقلاب کے طلوع کی خوش خبری سننے کو ملی۔
امام خمینیؒ کو ابتداء ہی سے اس بات کا احساس تھا کہ دُنیا کے ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کی نمائندگی کرنے، دو عظیم طاقتوں کے سیاسی ونظریاتی حملوں کا مقابلہ کرنے اور اسلامی مقاصد کے دفاع وتحفظ کے لئے ایرانی جیالوں کو صف اوّل میں کھڑا ہونا ہے۔ دُنیا والوں پر یہ حقیقت آشکار ہوگی کہ امام کی بے لوث اور بروقت رہنمائی میں امت نے تمام رکیک حملوں کا مقابلہ کیا۔
اسلامی وعالمی تاریخ کی عظیم شخصیت کی دائمی جدائی کا انیسواںبرس چل رہا ہے اور اب بھی دُنیا بھر کے کروڑوں مسلمان اس پار سا اور عابدہستی کی قربت کے لذت کو محسوس کررہے ہیں۔ امام خمینیؒ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں فرمایا تھا:
’’یہ اسلامی تحریک کسی شخص پر قائم نہیں ہے۔ میں آپ کے درمیان رہوں یا نہ رہوں مگر یاد رکھو کہ اتحاد ویگانگت کی ڈگر سے وابستہ تحریکی سفر جاری رکھ کے ہی آپ کو منزل ملے گی‘‘۔
اس وقت اسلامی دُنیا امام خمینیؒ کے بوئے ہوئے تحریکی پودے کو تناوردرخت کی صورت میں دیکھ رہی ہے۔ بلاشبہ امام خمینیؒ کا انقلابی مشن اور ان کا لازوال پیغام آئندہ نسلوں کیلئے بھی مفید اور تعمیری ثابت ہوگا کیونکہ امام انقلاب ؒ نے آج کے انسان کو یہ سبق دیا ہے کہ سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی قوتوں کے سامنے جھکنا ذلت ورسوائی کے مترادف ہوگا۔ ان کی وصیت میں سے ایک جھلک پیش خدمت ہے:۔
’’اسلامی ممالک کے غیور عوام سے میری وصیت ہے کہ آپ اس انتظار میں نہ رہیں کہ کوئی باہر سے آکر اسلام احکامات کے مفاد کے سلسلے میں آپ کے مقاصد میں کسی طرح کی مدد کرے۔ آپ خود اس حیات بخش عمل کیلئے جو آزادی کو اپنے ہمراہ لاتا ہے اقدام کیجئے، اسلامی ممالک کے علماء اعلام اور خطبائے کرام کا فریضہ ہے کہ وہ حکومتوں کی بڑی طاقتوں کی غلامی سے آزاد ہونے اور اپنی قوم سے مفاہمت کرنے کی دعوت دیں‘‘۔
امام خمینیؒ نے زمانے کو بتادیا کہ کس طرح سے خدائے برتر وبزرگ پر بھروسہ کرکے دُنیا کی بڑی سے بڑی طاقت سے ٹکرایا جاسکتا ہے۔ اُنہوں نے یہ بات ذہن نشین کرائی کہ جب بھی علم ودولت کا مقابلہ ہوگا ہمیشہ دولت کو احساس کمتری میں مبتلا ہونا پڑے گا اور علم کا ہر حالت میں بول بالا ہوگا۔ مرحوم کی ساری زندگی مجاہدہ حق میں گزری۔ نیز اُنہوں نے اپنے زمانے میں دُنیا کو سلیقہ جہاد سکھایا۔ان کی بابرکت شخصیت میں ایسی جاذیت اور کشش تھی جس کی تابنا کی کو ہزار پروپیگنڈے ماندنہ کرسکے۔ ان کی خداداد مقبولیت کو ختم کرنے کیلئے مغربی طاقتوں نے امریکہ کی سرکردگی میں ایڑی چوٹی کا زورلگایا لیکن کامیابی نہیںملی۔
اس عظیم المرتبت ہستی نے بیسوی صدی میں وہ کام کردکھایا جس کی مثال تاریخ عالم میں ملنا مشکل ہے۔ ایران کے جابرشاہ کا تختہ پلٹ دینا ان کا انتان بڑا کارنامہ نہیں ہے جتنا ان کا دُنیا کو یہ دکھادینا کہ اسلام ایک جیتا جاگتا دین ہے جس کے ارفع وزریں اصولوں کو اپنا نے سے ہر زمانے میں تمام انسانی مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔ اسلام ہی وہ دین ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور پیغمبر آخرزماں محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے ہمیں ملا ہے۔ آج دُنیا میں اہل دُنیا مغربی اور مشرقی شکل میں منظم ہونے والے الحاد سے دردورنج میں مبتلا ہے۔ لہذا جب تک اس دُنیا پر ظلم وستم، جارحیت اور سامراج کی حکمرانی، امام خمینیؒ کے زریں افکار زندہ پائندہ رہیں گے۔
امام خمینیؒ فقط ایک قوم کے قائد ور ہبر نہ تھے بلکہ ایک ایسی امت کے امام تھے جس نے ساری دُنیا میں دین اسلام کی سربلندی کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اُنہوں نے اپنی پوری زندگی خدا کی راہ میں صرف کردی۔ وہ ایک عادل، شجاع اور دانشمند تھے جو خدائے تعالیٰ کے علاوہ کسی چیزکو خاطر میں نہ لاتے تھے اور امت اسلامیہ کو اپنا مخاطب خیال کرتے تھے۔ اُنہوں نے اپنی پر خلوص قیادت سے امت اسلامیہ کی زندگی کو معنوی جلا بخش! آیت اللہ امام خمینیؒ نے برملا ارشاد فرمایا:۔
’’مسلمانوں کے مسائل بہت ہیں لیکن مسلمانوں کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کریم کو ایک طرف رکھ دیا ہے اور خود دوسروں کے جھنڈوں کے نیچے جمع ہوگئے ہیں۔ حالانکہ قرآن فرماتا ہے :تم سے اللہ کے دین پر مضبوطی سے اکٹھے ہوجائو اور فرقوں میں مت بٹ جائو۔ اگر مسلمانان عالم اس ایک آیت پر عمل کرتے تو ان کی تمام اجتماعی،سیاسی،اقتصادی غرض یہ کہ تمام درپیش مشکلات بغیر کسی کے دامن کو تھامے حل ہوجائیں‘‘۔
مسلمانوں کی صفوں میں بلا تمیز مسلک وگردواتحاد ویکجہتی کو فروغ دینے کی غرض سے باربار فرماتے تھے۔
’’شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دینے والے مسلمان نہیں بلکہ اسلام دشمن قوتوں کے ایجنٹ ہیں جو ہم سے اسلام قدریں چھیننا چاہتے ہیں۔ یاد رکھئے دین اسلام ہم کو اتحاد وحدت کا حکم دیتا ہے۔ سنی ہو یا شیعہ ہوں یا کسی اور فرقہ کے پیروکار۔۔۔ آئیے ہم سب کلمہ گو ہر اختلاف سے کنارہ کشی اپنائے آپس میں مل کر صلح وصفائی کی زندگی بسر کریں اور اللہ کی قدرت پر بھروسہ کرکے اسلام کی قدروں کا دفاع کریں۔ اس صورت میں اللہ ہمارا مددگار ہوگا اور کوئی قوت ہم پر غالب نہ آئے گی‘‘۔
امام خمینیؒ کے انیسویں یوم وصال پر آئیں ہم سے مسلمان بلا تفریق مسلک ونظریہ ہر قدم پر اتفاق واخوت کا مظاہرہ کریں اور اسلام دشمن طاقتوں کی فریب کاریوں کا موثر انداز میں جواب دینے کیلئے ایک مشترکہ قیادت کی داغ بیل ڈال دیں۔ فلسطین،عراق اور کشمیر وغیرہ میں مسلمانوںکو درپیش مشکلات کا حل فقط اتحاد ویکجہتی میں ہے۔ ایت اللہ خمینیؒ نے بھی اپنے ارشادات میں زیادہ تر اسی اتحاد پر زور دیا ہے۔ گر وہ بندی یا فرقہ بندی سے قطع نظر اُنہوں نے آپسی رواداری واخوت کو فروغ دینے کی تلقین آخری دم تک کی۔ غرض آیت اللہ ؒ باہمی اتحاد درس زندگی بھر دیتے رہے۔
سوئے ذہنوں کو جگا کر سوگیا وہ مردِ حق
منفرد کردار سے دُنیا کو حیران کردیا










