سرینگر//جموں وکشمیرکے لوگوں کواب کھوکھلے نعروں سبز باغ دکھانے سے نہ بہلانے کاعندیہ دیتے ہوئے لیفٹننٹ گورنرنے کہاکہ میں جموں وکشمیرکی لوگوں کے مزاج کوسمجھ رہاہوں لوگ امن ترقی خوشحالی روز گار کے مطمنی ہے اور کوئی جموں کشمیرکے لوگوں کواب انتشار میں نہیں ڈال سکتاہے ۔جموں وکشمیرمیں اسمبلی الیکشن کرانے یانہ کرانے کااختیار الیکشن کمشن آف انڈیاکوہے جوحدبندی کمشن کایک ممبر ہے ۔اے پی آ ئی کے مطابق زی نیوز کے ساتھ انٹرویو کے دوران جموںو کشمیرکے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ جب ملک کے وزیراعظم نے 15اگست 2020کو لال قلعے کے فیصل سے عوام کوخطاب کرنے کے دوران اعلان کیاکہ جموں وکشمیرمیں اسمبلی الیکشن ہوکررہے گے اور وزیرداخلہ نے فلور آف د ہاوس کہا کہ مناسب وقت پر جموں کشمیرکے لئے سٹیٹ ہڈ بحال کیاجائیگا ان اعلانات کے بعد شک وشبے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ہے۔انہوںنے کہاکہ حدبندی کمشن اور الیکشن کمشن آف انڈیا پرسوالیہ نشان لگانے کاکسی کوحق نہیں ہے یہ آئینی ادارے ہے اور ان کے کام کاج پرکسی کوشک وشبہ نہیں ہونا چاہئے ۔حدبندی کمشن نے جموں کشمیرکاچارروزہ دورہ مکمل کیا اس دورے کے دوران مختلف سیاسی پارٹیوں کے نمائندے اور مختلف مکتب ہائی فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ کمشن سے ملاقی ہوئے ہر ایک نے اپنانقطہ نگاہ سامنے رکھااور حدبندی کمشن کی چیئرپرسن ریٹائرڈ جسٹس رنجناڈسائی نے صاف کردیاکہ حدبندی کمشن اپناکام شفاف بنیادوں پر انجا م دیگااور کسی سے ڈیکٹیشن لینے کی اس سے ضرورت نہیں ہے ۔لیفٹنن گورنر نے کہاکہ ہمیں ادارو ںکی کارکردگی پرسوالات کھڑا کرنے کاکوئی حق نہیں ہے حدبندی کمشن کے قیام کے لئے ملک کے سب سے بڑے ا ئنی ادارے نے پارلیمنٹ نے اس کی قیام کے منظوری دی ہے اور حدبندی کشمن آیئنی دائرے میں رہ کراپناکام خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے رہاہے کسی کے سوالات اٹھانے سے ادارے کی کارکردگی متاثر نہیں ہواکرتی ہے دنیاجانتی ہے کہ بھارت میں الیکشن کمشن آزاد اور خودمختارادارہ ہے اور الیکشن کمشن آف انڈیا حدبندی کمشن کاممبرہے جموںو کشمیرمیں اسمبلی الیکشن کرانے کااختیار اسی کوہے پہلے حدبندی یاسٹیٹ ہڈبحال ہوئے سیاسی پارٹیوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوال کے جواب میں لیفٹننٹ گورنرنے کہاکہ آل پارٹئز میٹنگ کے دوران وزیرداخلہ نے اس سلسلے میں حکومت کی پالسی واضح کردی اور مزیدکچھ کہنے کی کسی وضرورت نہیں ہے ایسے کیاوجوہا ت تھے کہ پہلے حدبندی کرنی پڑی وزیرداخلہ نے اس سلسلے میں تمام سیاسی پارٹیوں کو آل پارٹئز میٹنگ کااعلان کیا۔پاکستان کے ساتھ بات کرنے کی وکالت اور پی ڈی پی کی جانب سے دوری اختیارکرنے کے بعد ای ڈی کی جانب سے پی ڈی پی کے بانی مرحوم مفتی محمدسیدکی اہلیہ کے نام نوٹس اجراء کرنے کے بعد محبوبہ مفتی کی جانب سے دیئے گئے بیان کاسوال کاجواب دیتے ہوئے لیفٹننٹ گورنر نے کہاانفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ ہویااین آ ئی اے یہ خود مختار ادرے ہے یہ جس سے چاہئے پوچھ تاچھ کرسکتے ہے پوچھ تاچھ میں کوئی حرج نہیں۔ انہوںنے کہاکہ 25سے زیادہ ادروںکے خلاف پہلے ہی کیس درج کئے ہے ان سے پوچھ تاچھ ہورہی ہے الزام لگانے والے الزامات لگاتے رہتے ہے یہ کوئی نئی بات نہیں بھارت میں تحقیقاتی ادارے آزادہے پاکستان کے ساتھ بات چیت کی وکالت کاسوال کاجوا ب دیتے ہوئے لیفٹننٹ گورنر نے کہا میں سیاسی بیان دینے سے گریز کرتاہوں اور میں نہیں سمجھتا ہوں کہ مجھے اس بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت ہے ملکی معاملات چلانے کیلئے ادارے چلارہے ہے اوران اداروں کواپناکام کرنے دے۔سات جولائی کوراجوری میں ادراندازی کے بعد بھی پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کے بارے میں انہوںنے کہا کہ میرے لئے کوئی چلیج نہیںہے اور میں یہ سمجھتاہوں کہ فوج نیم فوجی دستے جموںو کشمیرپولیس کویہ صلاحیت ہے کہ وہ دراندازی کوروکنے عسکریت کے خاتمے کے لئے اقدامات اٹھانے کے اہل ہے اور ہم کسی بھی چلینج کامقابلہ آسانی کے ساتھ کرسکتے ہے ۔لیفٹننٹ گورنر نے کہا کہ جموں وکشمیرکے لوگ امن ترقی خوشحالی میں یقین رکھتے ہیں میں ان کے مزاج کوسمجھ رہاہوں وہ ان کھوکھلے نعروں سبز باغ دکھانے کے فریب میں نہیں آ ئینگے ۔جموں کشمیر میں لوگ بہتر مستقبل کی امیدلگائے بیٹھے ہے اور مرکز ی حکومت کی جانب سے جوبھی اقدامات اٹھائے جارہے ہے جموں وکشمیرکے لوگ اس کاباریک بینی سے جائزہ بھی لیتے ہے اور اپنی بات بھی سامنے رکھتے ہے جس سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ لوگ اب جموںو کشمیرمیں کشیدگی اور تناؤ دیکھنا نہیں چاہتئے ہے انہوںنے کہاکہ وزیراعظم نے آل پارٹئز میٹنگ کے دوران جموںو کشمیرواپس لوٹنے سے پہلے اس بات کی تاکید کی کہ لوگوں کے ساتھ رابطہ مضبوط مستحکم کیاجائے پنچایت راج کوہرممکن طور پریقینی بنانا چاہئے تاکہ لوگوں کوجن مشکلو ں کاسام اہے انہیں ان سے چھٹکارا ملے ۔انہوںنے کہاکہ دفعہ 370کے خاتمے کے بعد جموںو کشمیرمیں پنچایت بی ڈی سی ڈی ڈی سی الیکشن ہوئے لوگوں نے اپنی رائے دیہی کااستعمال کیالوگ جمہوریت پریقین رکھتے ہے اور اپنے مسائل کوپرُامن طریقے سے حل کرنے میں سنجیدہ ہیں ۔










