اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میںلال قلعہ حملے سے جیشِ محمد کے مبینہ روابط کا انکشاف

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میںلال قلعہ حملے سے جیشِ محمد کے مبینہ روابط کا انکشاف

سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی 37ویں رپورٹ جاری، بھارت کے خدشات کو شامل کرنے کی تصدیق

سرینگر// یو این ایس / / قوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں قائم شدت پسند تنظیم جیش محمد کا گزشتہ سال نومبر میں نئی دہلی کے سرخ قلعہ پر ہونے والے دہشت گرد حملے سے مبینہ تعلق رپورٹ کیا گیا ہے، جس میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔یو این ایس مانیٹرئنگ کے مطابق یہ انکشاف سلامتی کونسل کی 1267 پابندی کمیٹی کے لیے پیش کی گئی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی 37ویں رپورٹ میں کیا گیا، جو اقوم متحدہ کی سلامتی کونسل کو پیش کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک رکن ملک نے نشاندہی کی کہ جیشِ محمد نے متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی اور اسے 9 نومبر کو نئی دہلی میں سرخ قلعہ پر ہونے والے حملے سے بھی منسلک بتایا گیا، جس میں 15 افراد جان کی بازی ہار گئے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 8 اکتوبر کو جیشِ محمد کے سربراہ اظہر مسعودنے باضابطہ طور پر خواتین پر مشتمل ایک ونگ “جماعتْ المومنات” کے قیام کا اعلان کیا، جس کا مقصد دہشت گرد کارروائیوں کی معاونت بتایا گیا۔اگرچہ ایک اور رکن ملک نے جیشِ محمد کو غیر فعال قرار دیا، تاہم رپورٹ میں علیحدہ طور پر یہ بھی ذکر کیا گیا کہ 28 جولائی کو پہلگام، جموں و کشمیر میں ہونے والے حملے میں مبینہ طور پر ملوث تین افراد کو ہلاک کر دیا گیا۔یاد رہے کہ نئی دہلی میں سرخ قلعہ کے قریب میٹرو اسٹیشن کے پاس ایک ٹریفک سگنل پر کھڑی سست رفتار گاڑی میں زوردار دھماکہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں تقریباً 15 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔نئی دہلی میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال سے اس رپورٹ پر تبصرہ طلب کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ عوامی دستاویز ہے اور 4 فروری 2026 کو جاری کی گئی۔ ان کے مطابق رپورٹ میں سرحد پار دہشت گردی سے متعلق بھارت کے خدشات اور عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مضبوط بنانے سے متعلق بھارتی مؤقف کو شامل کیا گیا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اے کیو آئی ایس‘ جنوب مشرقی افغانستان میں سرگرم ہے، جہاں حقانی نیٹ ورک کا خاصا اثر و رسوخ ہے۔ تنظیم کے امیر اسامہ محمود اور نائب یحییٰ غوری کے کابل میں موجود ہونے کی اطلاع دی گئی، جبکہ اس کا میڈیا سیل ہرات میں قائم بتایا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اے کیو آئی ایس بیرونی کارروائیوں پر توجہ مرکوز کر رہا ہے اور امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ ایسی کارروائیاں غیر اعلانیہ یا قابلِ تردید نوعیت کی ہو سکتی ہیں، ممکنہ طور پر “اتحاد المجاہدین پاکستان” جیسے کسی اتحادی گروپ کے تحت، تاکہ طالبان حکومت کو بطور میزبان مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔علاوہ ازیں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داعش خراسان شمالی افغانستان خصوصاً بدخشاں اور پاکستان کی سرحد سے ملحقہ علاقوں میں سرگرم ہے۔ تنظیم اپنے نیٹ ورک کو وسعت دے رہی ہے تاکہ علاقائی اور عالمی سطح پر خطرہ پیدا کیا جا سکے۔رپورٹ کے مطابق داعش خراسان نے وسطی ایشیائی زبانوں میں جارحانہ پراپیگنڈا مہم شروع کر رکھی ہے تاکہ اپنے ہدفی سامعین کو وسعت دی جا سکے۔ تنظیم نے غزہ اور اسرائیل تنازع جیسے عالمی مسائل کو بھی بھرتی اور مالی معاونت کے فروغ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔