اقلیتوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہماری اولین ذمہ داری :عمر عبد اللہ

90کی دہائی کے وائل کو دہرانے کی اجازت نہ دیں،اقلیتوں سے التجا

سری نگر//جموںو کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے جمعہ کو حالیہ ہلاکتوں کے بارے میں کہا کہ ان حملوں کے پیچھے ہمیشہ ایجنڈا وادی کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا اقلیتوکی حفاظت کرنا ہماری اولین زمہداری ہے انہوں نے انہیں اپیل کی ہے کہ وہ1990کے وائل کو دہرانے کی اجازت نہ دیں: کشمیر نیوز سروس کے مطابق سرینگر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر نے کہا کہ خاص اساتذہ کو نشانہ بنایا گیا اور ایجنڈا روایت ، ثقافت اور بھائی چارے کی پرانی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا تھا۔انہوں نے کہا یہ وادی کے اکثریتی طبقے پر اولین زمہداری ہے کہ کہ ہم اقلیتوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔عمر نے زور دے کر کہا کہ جس طرح “ہم دوسری ریاستوں اور ممالک میں مسلمانوں کی حفاظت کی توقع رکھتے ہیں اسی طرح ہمیں ایک اکثریتی برادری کے طور پر اقلیتوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا چاہیے”۔ایک سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ ، ان کی پوزیشن میں کوئی بھی فیصلہ دینا آسان ہے لیکن یہ انتہائی ناانصافی ہوگی کیونکہ وہ ان حالات میں اقلیتوں کے خوف کے احساس کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔نہوں نے کہا ، “میں تمام اقلیتوں سے پرزور اپیل کرتا ہوں کہ ان حملوں کا مقصد کمیونٹیوں کے درمیان دراڑ ڈالنا اور اقلیتوں کو کشمیر سے نکالنا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ “ہم ان حملوں کو کامیاب نہیں ہونے دے سکتے۔ میں اقلیتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ یہاں سے نکلنے پر غور نہ کریں”۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ہمیشہ اقلیتوں کی زندگیوں کی حفاظت کے لیے انتظامیہ سے بات کرنے کی کوشش کریں گے۔ انتظامیہ کوپیک اینڈ چوز کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا اگر ایک پنڈت اور ایک سکھ حالیہ حملے کے دوران مارے گئے ہیں تو پھر صرف پنڈت ملازمین کی چھٹیوں میں 10 دن کی توسیع کیوں کی گئی عمر نے مزید کہا کہ انتظامیہ کو ہر کمیونٹی کے ساتھ یکساں سلوک کرنا چاہیے۔”میں ایک بار پھر تمام اقلیتوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ 1990 کے اوائل کو دوبارہ نہ ہونے دیں اور وادی سے باہر لوگوں کا ہجرت نہ دیکھیں۔( کے این ایس)۔