وادی میں معصوم بچوں سے بھیک منگوانے کا گھناونا کام جاری

اقتصادی بحران اور گونا گوںمسائل کے بیچ گدا گروں کی بیڑ

سرینگر / /وادی کشمیر کے حالات ہر طرح دگر گوں ہیں اور کشمیر میں رہنے والے لوگوں کو بے شمار چلینجوں کا مقابلہ ہے۔گذشتہ تین دہائیوں کے نامساعد حالات سے یہاں لوگ سکون کھوگئے اور اقتصادی طور بھی خستہ حال ہوتے رہے اب جو کسرباقی رہی تھی کوڈ۔ 19نے پوری کردی ۔کوروناوائرس سے یہاں کے لوگ اقتصادی بحران کے شکار ہوگئے ہیں۔تجارتی سرگرمیاں متاثر ہیں ۔ان مشکل ایام میں پیسوں کی گردش محدود ہوگئی ہے ۔ اس کے علاوہ بے روزگاری سے نوجوان طبقہ ذہنی کوفت میں مبتلاہوئی ہے ۔جبکہ سرکاری دفاترمیں کام کرنے والے عارضی ملازمین کے بہت سے حل طلب مسائل اور حکومت کی عدم توجہی پر احتجاجوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ۔بنیادی سہولیات کاشہر ودیہات میں فقدان ہے اور لوگ روزانہ سڑکوں پر آکر سرکار ی مشینری کے خلاف سراپا احتجاج ہوتے ہیںاور یہ تمام مسائل در پیش ہونے کے باوجود دوسری طرف ایک سنگین نوعیت کا مسئلہ کھڑا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ غیر ریاستی بھکاریوں کی آمد سے وادی میں مختلف قسم کی پریشانیاں جنم لیتی ہیں ۔کیونکہ یہ بھکاری اپنے اہل عیال سمیت وادی واردہوتے ہیں اور وادی کے شہر گام میں اپنا ڈھیرہ ڈالتے ہیں۔ شاہد ہی کوئی مسجد ،کوئی بازار ،کوئی گلی ایسی ہوگی ۔جہاں پرغیر ریاستی بھکار ی موجودنہ ہوں۔غیر ریاستی عورتیں کشمیری یا عربی ٹائپ کابرقہ زیب تن کرکے یاساڑھیاں پہن کر مساجد کے چاروں طرف اپنی جھولی بچھائی ہوئی ہوتی ہیں اور ان عورتوں کے ہمرا ہ ان کے کمسن اور معصوم بچے بھی بڑے تجربہ کار ہوتے ہیں اور روپے پیسے ڈالنے کے بغیر آدمی کو چھوڑنے والے نہیں ہوتے ہیں ۔،ملک کی مختلف ریاستوں سے ان گنت بھکاری مردو زن بچوں سمیت وادی کی طرف آتے ہیں اوران کے قیام کیلئے وادی کے شاہراہوں ، سڑکوں ،جھیلوں ،ندی نالوں ،دریاوں کے کنارے اور کاہچرائی اراضی کافی ہے ۔ وہ ان جگہوں پر قیام پذیر ہوجاتے ہیں ۔پھر دن بھر کشکول لیکر لوگوںسے راہ خد ا کے نام پر پیسے حاصل کرتے ہیں ۔اگرچہ غربت کی وجہ سے یہ لوگ بھیک مانگنے پر مجبور ہیں لیکن حکومتی سطح پر اس کیلئے ایک لائحہ مرتب ہونا لازمی ہے کیونکہ جس طرح یہ بے لگام ہوئے ہیں اس سے دیہی وشہری علاقوں میں انتشاری کیفیت پیدا ہوتی ہے اور سماج میں نئے بدعات جمع لیتے ہیں اور نئی نسل کارجحان اس طرح بڑھنے کا خطرہ بھی ہے ۔اس سلسلے میں وادی کے شہری اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے کشمیر پریس سروس سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ نامساعد حالات اور کوروناوائرس کی وجہ سے وادی کے اقتصادی حالات اتنے ابتر ہوئے ہیں کہ بہت سارے لوگ نان شبینہ کے محتاج ہوئے ہیں ۔ان حالات میں ان بھکاریوں کا بھیک مانگنا لوگوں کو ناگوار گذرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ بھکاری جہاں بھیک مانگتے ہوئے لوگوں کو تنگ وطلب کرتے ہیں وہیں ان سے متعلق اکثر شکایات ملتی ہیں کہ یہ مختلف جرائم کو پھیلاتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دن بھر یہ بھکاری بھیک مانگتے ہیں لیکن رات دیر گئے تک مختلف جگہوں پر بیٹھ کر نشہ آور اشیاء کا کھل کر استعمال کرتے ہیں جس سے کشمیری نوجوان بھی منشیات کی بُری لت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔اسکے بنیادی وجوہات یہ ہیں کہ باہر کے یہ باشندے شراب ،گانجا ،چرس ،افیون و دیگر نشہ آور اشیاء ساتھ لائے ہوتے ہیںاور اس عادت کوپھیلانے میں نت نئے طریقے اختیار کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب بھیک مانگنے کے مختلف طریقے اپناتے ہوئے جوگیوں یا حکیموں کا رول ادا کرکے اکثر یہاں کی خواتین ان کے جھانسے میں آتی ہیں اور اُن کو مختلف طرح کے دھوکے اور فریب دیکر ان سے طرح طرح کا ساز و سامان لیتی ہیں۔ان جرائم پیشہ افراد پر قابو پانے کیلئے پولیس رول نبھاسکتی تھی لیکن وہ اس طرف توجہ مرکوز کرنے کی زحمت گورا نہیں کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک کی دوسری ریاستوں یا زیرانتظام علاقوں میں جب بھی غیر مقامی باشندے داخل ہوجاتے ہیں تو وہاں پولیس ان کے حرکات وسکنات کی طرف پوری توجہ دیتی رہتی ہے لیکن یہاں باہر سے آنے والے باشندوں کے حوالے سے پولیس کوئی دھیان نہیں دیتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وادی میں غیرمقامی باشندوں کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھا جاتا ہے جو حق بھی ہے اور یہاں کی تہذیب کا حصہ ہے لیکن ان سے متعلق جانکاری حاصل کرنے کیلئے پولیس کو توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ جرائم پیشہ افراد کی حرکات و سکنات پربروقت روک لگائی جاسکے اور اس تحقیقاتی عمل سے یہاں ان کی وجہ سے نشہ کی لت پڑنے میں کافی حد تک فرق آجائے گی ۔اس سلسلے میں انہوں نے موجودہ انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مقامی اور باہرکے جرائم پیشہ افراد اور بے لگام بکھاریوں کی سرگرمیوں پر قد غن لگانے کیلئے پولیس کو متحرک ہونے کی ہدایت دی جائے تاکہ یہاں کا ماحول پاک و صاف رہ سکے اور نئی نسل بُری عادات کی لت میں مبتلا ہونے سے بچ جائیں اور مساجد ،بازار اور ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنے والے افراد ان بھکاریوں کے غیض وغضب اور سوالوں کی پکار سے نجات پاسکیں گے۔