افغان وزیر کی پریس کانفرنس ‘خاتون صحافیوں کومدعو نہیں کیا گیا

نئی دہلی/ایجنسیز// افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی جمعرات سے7دنوں کیلئے ہندوستان کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے جمعہ کو وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے بھی ملاقات کی اس کے بعد پریس کانفرنس کی۔ تاہم خواتین صحافیوں کو کانفرنس میں شرکت سے روک دیا گیا۔جے شنکر کے ساتھ ملاقات میں متقی نے دو طرفہ تجارت، انسانی امداد اور سیکورٹی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے تاہم سب سے زیادہ زیر بحث مسئلہ پریس کانفرنس میں خاتون صحافیوں کی غیر حاضری کا تھا۔افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کی دہلی کے سفارت خانے میں ہونے والی پریس کانفرنس سے خواتین صحافیوں کو باہر کیے جانے پر اپوزیشن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے “حیران کن اور ناقابل قبول” قرار دیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے کہا کہ خواتین کو ہر جگہ پر مساوی شرکت کا حق حاصل ہے اور اس طرح کے امتیازی سلوک کے خلاف مودی کی خاموشی ’’ناری شکتی‘‘ (خواتین کی طاقت) پر آپ کے نعروں پر سوالیہ نشان لگاتیہے۔طالبان کے وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس میں خاتون صحافیوں پر پابندی کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین نے غم و غصہ کا اظہار کیا۔ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ کسی خاتون صحافی کو پریس کانفرنس میں مدعو نہ کرنا ناقابل قبول اقدام ہے۔ ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں مرد صحافیوں کو احتجاجاً پریس کانفرنس سے واک آؤٹ کرنا چاہیے تھا۔اس پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کی عدم موجودگی افغانستان میں خواتین کی حالت زار کی عکاسی کرتی ہے۔ افغانستان میں خواتین کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے خاص طور پر اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد طالبان نے خواتین کے حقوق پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔