افسانہ: اندر کاانسان

حسن ساہو

رات نصف سے زیادہ گزرچکی تھی۔ تاریکی ہر طرف حلقہ کئے ہوئے تھی۔ کہیں کہیں کھمبوں پر لگے روشن بلب تاریکی کے دامن کو چاک کرتے اور کتوں کی بھوں بھوں خاموشی وساکت فضا میں ہلچل مچادیتی۔
تنویر بھاری قدموںکے ساتھ حویلی کی جانب چل پڑا۔
کھٹ کھٹ کھٹ
’’مالک آپ اتنی رات گئے‘‘
بوڑھا مالی رمضان صدر دروازہ کھولے سہمی سہمی آواز میں کہہ گیا۔
جواب میں تنویر نے دوسگریٹ رمضان کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا۔
’’جائو رمضان بابا تم سوجائو‘‘
رات کا ڈیڑھ بج چکا تھا ۔ تنویر نے زینے چڑھنے شروع کئے۔ افسردگی اور بے اطمینانی کے نقوش اس کے چہرے پر نمایا ں تھے۔ والان میں تھوڑی دیر وہ ٹہلتے رہے۔ پھر سگریٹ کا آخری حصہ ایش ٹرئے کی نذر کئے اس نے کپڑے تبدیل کئے۔ کمرۂ شب باشی کا رُخ کیا۔
دروازہ اندر سے کھلاپڑا تھا۔
پردہ سرکا یا تو تنویر کینگاہیں پتھراگئیں ۔ وہ ہکا بکا رہ گیا۔
مجسم تصویر بن بیٹھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی پھٹی پھٹی نگاہیں پھر سے کمرے کا طواف کرنے لگیں۔ دلاور ہی اُس کے پلنگ پر لیٹے خراٹے بھر رہا تھا اور سامنے آرام کرسی پر نادرہ مست پڑی تھی۔۔۔
شریک حیات اور نوکر۔۔۔ تنویر کے ذہن میں ایک انقلاب بپا ہوا۔
دماغی وسعتوں میں غیر معمولی انار کی چھانے لگی۔
تحت الشعور میںنفرت کا لاوا پُھوٹ پڑا۔ الغرض تنویر کے ارادوں پر انتقامی جذبہ سوار ہوئے اُسے بُری طرح تڑپا نے لگا۔
نیچ۔۔۔۔کینہ۔۔۔۔بد ذات نوکر رکھنے کا یہ صلہ۔میں اس نمک حرام کو ختم کردوں گا۔ اس نے بازو میں پڑی الماری کا بٹن دبایا اور بالائی شیلف سے ریوالوار نکالا۔۔۔ معاًاس کا دھیان آرام کرسی پر لیٹی رفیق حیات کی جانب چلا گیا۔
’’بے وفا کہیں کی دغاباز۔۔ میری غیر حاضری میں عیش کر رہی ہے۔ مجھ سے دکھائوے کیلئے پیار جتاتی رہتی ہے۔ کمپنی اتنی گری ہوئی ہے۔‘‘
تنویر پر دونوں کو ختم کرنے کی دھن سوار ہوگئی۔۔۔ ریوالورکا گوڑا دبانے سے پہلے اس نے نادرہ کی طرف پھر دیکھا جو جماہی لے رہی تھی اور پھر پاس ہی دیوار پر آویزان کلینڈر پر نظریں جم گئیں جس پر معصوم بچے کی تصویربنی تھی۔۔۔۔معصوم۔۔۔۔ بے داغ وہ انگوٹھا چوسنے میںمحو تھا۔ اس کے ساتھ ہی تنویر کو اس بچے کا خیال ستانے لگا جو نادرہ کے پیٹ میں تقریباًسات مہینوں سے پل رہا تھا۔ اس کی حالت پھر ابتر ہونے لگی۔
’’یہ بچہ میرا نہیں ہوسکتا۔ اس کو زندہ رہنے کا حق نہیں۔ میں انہیں ابدی نیند سلادوں گا تاکہ کل کو میرے نام پر کوئی کالک نہ پوت دئے۔ تنویر نے افرا تفری کے عالم میں دیوالور کے گوڑے پر انگوٹھا تھما دیا۔ گوڑا دبانے ہی والا تھا کہ اس پریکا یک عجیب قسم کی بدحواسی چھانے لگی۔سارا کمرہ اُسے رقص کرتا دکھائی دیا ۔
ہوش وحواس جواب دینے لگے۔ وہ کچھ بھی نہ کرسکا۔
پسینے میں شرابوردو سکتے کے عالم میں کمرے کی چھت کو گھورنے لگا۔
’’تم ابھی تک کہاں تھے؟‘‘ تنویر چونک پڑا۔
’’میں پوچھتا ہوں تم نے گذشتہ سات راتیں گھر سے باہر کہاں گزار دیں۔‘‘
تنویرکے شعور میں سراسمیگی سماگئی۔ اضطرابی کیفیت وپریشانی میں پھر اُدھر جھانیکا سوائے اس کے کمرے میں کوئی نہ تھا۔ البتہ آوازیں آرہی تھیں۔ تم خود کیلئے ذلیل اور بد فطرت ہو۔ میں تمہاری ہرحرکت سے واقف ہوں ، تم ہر ایک کو دھوکہ دے سکتے ہو مجھے نہیں میں تمہارے ہی وجود کا دوسرا روپ ہوں۔
کیا تم نے سات راتیں گھر سے باہر نہیں گزاریں ۔ جواب دو!
زبان پر تالے پڑگئے۔
ریحانہ تمہارے دوست ارشاد کی امانت تھی البتہ تم نے اس کی عزت سے کھیلنا اپنا ایمان جان لیا۔۔۔ افسوس تم نے اپنے دوست کے اعتماد کا خون کیا۔
تم انسان نہیں،حیوان اور وحشی درندے ہو‘‘۔
تنویر کے ہاتھ سے ریوالور گرگیا۔ اُسے اٹھائے وہ بیٹھک میں گُھسا اور صوفے پر درازسگریٹ کے کش لینے لگا۔
’’تنویر صاحب تم معاشرے اور سماج کے چہرے پر بدنما داغ ہو‘‘۔
الغرض اندر کے انسان نے تنویر کو بُری طرح ستانا شروع کیا۔
وہ تڑپ اٹھا۔ گذشتہ ہفتہ بھر کے کارنامے اس کے سامنے رقص کرنے لگا۔ ایک ایک حرکت اس کے روبرو منڈلانے لگی۔۔
ارشاد تنویر کا قلمی دوست تھا۔ مراسلت کا سلسلہ کئی برسوں سے چل رہا تھا اپنی بیوی ریحانہ کو چندروز کیلئے تنویر کے ہاں چھوڑنے کی خواہش ظاہر کردی۔ دراصل ارشاد فوج میں بھرتی تھا۔ طے شدہ پروگرام کے تحت ریحانہ کو دہلی ریلوے اسٹیشن پر تنویر کے حوالے کرکے خود اسی گاڑی میں گورکھپور چلا گیا تاکہ ہیڈ کوارٹر سے مزید ایک مہینے کی چھٹی حاصل کرکے رفیق حیات کو کشمیرکی سیر کراسکے ریحانہ نہایت ہی جاذب نظر تھی۔ خوبصورتی کا نمونہ۔
تنویر کی نیت میں فتور سماگیا۔۔۔۔ اپنے دوست کی امانت کو گھر لانے کے بجائے نواحی ہوٹل میں ٹھہرایا اور پھر چاپلوسانہ لباس زیب تن کئے ریحانہ سے راہ رسم بڑھانے لگا۔۔۔۔ زیادہ وقت ریحانہ کے ساتھ ہی گزارنے لگا۔۔۔۔ جب رات بھر گھر نہیں آئے تونادرہ سے نہ رہا گیا۔
’’صاحب آپ رات بھر باہر رہے ۔ پہلے تو رات تو رات دن کا خاصہ حصہ میری رفقت میں گزارتے تھے۔ آخر کیا بات ہے مجھ سے کچھ خطا ہوئی ہے۔‘‘
نادرہ بات دراصل یوں ہے کہ دفتر میں حساب کتاب جانچنے کی ذمہ داری نبھارہا ہوں ،وہاں رات کو بھی قیام کرنا پڑتا ہے میں جو کچھ کررہا ہوں تیرے اور ہونے والے بچے کی بہبودی کی خاطر کررہا ہوں‘‘
’’تمہاری عدم موجودگی میں بے چین رہتی ہوں، اس حویلی کی ہر چیز کاٹنے کو دوڑتی ہے‘‘۔ یہ نادرہ تھی۔
’’چند دنوں کی بات ہے نادرہ۔
یہ کہہ کر تنویر ہوٹل کی جانب چل پڑا۔
وہ ریحانہ کی طرح طرح سے اپنے بجھائے جال میں پھنسانے کی تگ دور کرنے لگا۔البتہ ریحانہ تنویر کی ہر ناپاک جرکت کو خوش اسلوبی کے ساتھ زیر کرتی رہی البتہ اس شام جبکہ سردرد کی وجہ سے ریحانہ بستر پر لیٹی تھی وہ تنویر کے ہتھکنڈوں سے بچ نہ سکی ۔اس نے دوائی کے ساتھ کوئی نشیلی چیز ریحانہ کے حلق پر انڈیل دی۔ہوش وحوس اس جواب اپنے لگے۔اور اس عالم میں تنویر نے من کی پیاس بجھادی ۔اس طرح اپنے دوست کے اعتماد کا بھی خون کردیا۔
عورت کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہوا کرتی ہے کہ وہ عورت ہے۔اس دوران ریحانہ نے خواہش کا اظہار کیاکہ وہپ ناردہ سے ملنا چاہتی ہے۔البتہ تنویر کبھی اس بہانے اور کبھی اُس بہانے اُسے ٹالتا رہا۔ایک با بار موقع پا کر وہ تنویر کی حویلی تک آنے میں کامیاب ہوگئی ۔۔۔۔تنویر نے مالی رمضان سے کہلوایا کہ نادرہ میکے چلی گئی ہے۔۔۔۔آج رات دیر گئے ہوٹل میں داخل ہونے پر علم ہوا کہ ارشاد آیا ہوا ہے۔دفتاََتنویر کی حالت دگر گوں ہو چلی ۔وہ ارشاد کا سامنا کئے بغیر واپس لوٹا۔۔۔خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔
’’ِِِہاِں یہ سچ ہے صرف سچ تنویر چلا آیا‘‘۔
اس کی حالت تاگفتہ بہہ تھی۔
اندر کے اس انسان نے اُسے بری طرح زیر کردیاتھا۔
سگریٹ کے اس دھویں سے کمرے بالائی حصہ اٹا پڑا تھا۔
اتنے میں موام میں ارتعاش آگیا اور بارش کے ساتھ تیز آندھی چلی۔سامنی والی کھڑکی بند کرنے کی غرض سے اٹھا ہی تھاکہ مانوس آواز کانوں سے ٹکرائی۔
’’دلاور ۔۔۔۔۔۔۔۔دلاور یہ نادہ کی آواز تھی‘‘۔
’’جی مالکن‘‘
’’آندھی چل رہی ہے کھڑکیاں بند کرو ‘‘
دلاور کے بستر سے اُٹھنے اور جھرکے بند کی آواز صاف سنائی دیں۔
ــ’’مالکن اب میں جائوں ۔تنویر چونکایہ دلاور تھا۔
’’مالکن آب مجھے اجازت دو‘‘اس پر ناردہ کی آواز ابھری
’’کیا ہوا تمہیں کیوںروز بچوں کی طرح ضد کرتے ہو‘‘
’’مالکن میرے لئے فرش پر بچھی چٹائی کافی ہے۔یہ پلنگ میر ی جگہ نہیں۔
مجھے اپنے قدموں میں جگہ دو میں فرش پر سو جائوں گا ۔دلاور گڑ گڑایا اس پر ناردہ نے سمجھانے کا کا انداز اپناتے ہوئے کہا۔
’’پگلے اتنا بھی نہیں سمجھتے ۔میں یہ پلنگ خالی نہیںدیکھ سکتی۔رات کوآنکھیںکھلنے پر پلنگ کوگھورا کرتی ہوں تو اطمینان رہتاہے کہ پلنگ خالی نہیں یاد ہے اُس رات میں کتنی دہشت زدہ اور سہمی سہمی تھی جب تمہیں پلنگ پر سونے کو کہنا جب تک ان کا نام ختم نہیں ہوتاتمہیں پلنگ پر پڑے گا ۔دلاور تم میرے بھائیہو ایک بہن کے لئے اتنانہیں کرسکتے۔
’’ماککن اب کی بار دلاور بچوں کی طرح رونے لگا۔
’’دلاور کیا ہوا ۔تم کیوں رو رہے ہو‘‘
’’مالکن سوچتا ہوں چھوٹا منہ بڑی بات نہ ہو جائے۔اس اس پر نادرہ بولی
’’بتائو دلاور تم کیا کہنا چاہتے ہو مجھے تم پر بھروسہ ہے۔
’’مالکن تنویر بابو کو میں نے ایک انجان لڑکی کے ساتھ شاپنگ کرتے ہوئے دیکھا۔ وہ دونو ں آپس میں خوب۔۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ دلاور عملہ مکمل کرلیتا۔ تزاغ تزاغ کی آواز میں آگئیں’’دلیل کیلئے نکل جا میرے کمرے سے۔تمہاری اتنی جرأت کہ میرے سرتاج کے خلاف زبان کھولی۔جس کے ٹکڑوں پر پل رہے ہو اس سے غداری۔ذلیل میں تمہارا گلا گھونٹ دوں گی۔‘‘
تم نے ایک عورت کی غیرت کو للکارا ہے۔
بپھری شیرینی کی طرح نادرہ دلاور پر جھپٹ پڑی۔ وہ اپنے شوہر کیخلاف بھی سننا نہیں چاہتی تھی۔
تنویر سب کچھ سن رہا تھا۔ اس کی حالت میں ارتعاش سماگیا۔
اس کے اندر کا انسان باہر کو آرہا تھا۔ اندر کے انسان کے جاگ جانے اور باہر آنے سے تنویر میں بلاکی تبدیلی رونما ہوئی۔ اس کے دماغ ودل پر ایک بھاری بوجھ یک لخت آن پڑا جو اب تک اندر کا انسان اٹھائے ہوئے تھا۔ْ
تنویر نے اس شیتل بوجھ کو ہلکا کرنا چاہا۔۔۔ اُس سے رہانہ گیا اور نادرہ کے قدموں پر ڈھیر ہوگیا۔
’’نادرہ تم فرشتہ صفت خاتون ہو۔ مجھے معاف کردو۔
میں تمہارا گناہ گار ہوں۔ خدا کیلئے مجھے معاف کردو۔‘‘
نادرہ نے دلاور کی گرفت چھوڑ دی۔ تنویر بولتے رہے ’’نادرہ میں کمینہ ہوں میں نے تم سے جھوٹ بولا کہ ہوٹل میں کام کر رہا ہوں میں بہت گرچکا ہو ں‘‘۔
اتنا کہہ کے تنویرزار زار رونے لگا۔
نادرہ کی بھی ہچکچیاں بندھ گئیں۔ روتے روتے گویا ہوئی۔
’’تنویر اس میں تیرا قصور نہیں مجھ سے ہی کوئی غلطی سر زد ہوئی ہے۔ جو آپ راستے سے بھٹک گئے۔‘‘
اس کے بعد دونوں ایک دوسرے سے بغل گیرہوگئے۔ پیار کی گرفت نے دونوں کے دلوں کو ایک دوسرے کیلئے صاف کر دیا۔۔۔۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
اتنے میں رزق بابا لفافہ اور کپڑوں کی گٹھری لئے وارد ہوا۔
تنویر نے لفافہ کھولا ارشادکا خط تھا۔
پیارے تنویر
جانے کیا بات ہے کہ تمہاری بھابھی کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی۔ رات کو بھابی نادرہ کے ساتھ سنیما گئی تھی۔ دیر سے لوٹی ضد سوار ہے کہ میں اُسے گھر واپس لے چلوں تم اوربھابھی سے ملے بغیر سب پروگرام منسوخ کرکے صبح کی گاڑی سے واپس جارہا ہوں ۔ یہ ایک مہینہ اب اباامی کی شرکت میں گزاروں گا۔
ہاں تو کچھ کپڑے وزیور بھیج رہاہوں یہ چیزیںمیری بھابی نے ریحانہ کے ساتھ خرید کے اُس کے پاس رکھی تھیں تمہیں چاہئے تھا کہ فالتو وقت میں بھابی کی ضروریات پر دھیان دیتے ۔لیکن تم بڑے آدمی ہو۔ اُسے اپنے ساتھ بازار لے جانا اپنی شان کیخلاف سمجھتے ہوں گے۔ ریحانہ کے کہنے پر یہ چیزیں بھابی نادرہ کو دینے کے لئے (بقیہ صفحہ10پر اندر کا انسان)
بھیج رہاہوں بغیچے میں آسمانی رنگ کا صوٹ بھی ہے۔ یہ میں نے بھابی کیلئے خریداہے اُسے دینا۔
مجھے افسوس ہے آپ لوگوں سے ملے بغیر جارہاہوں۔
انشاء اللہ آئندہ ملیں گے۔تمہارا خیر خواہ
ارشاد
تنویر جان نہ سکا یہ کیا ہورہا ہے۔ اور کیسے ہورہا ہے۔ بقچہ اور خط اس نے چاہا تھا کہ نادرہ کی نظروں سے بچارہے البتہ اب جبکہ اندر کا انسان سب کچھ خود ہی کررہا تھا۔
وہ اس پر مکمل طور سے غلاب آیا تھا۔
بقچہ اور خط نادرہ کے سامنے ٹی پائے پر کھ کر تنویرمرے مرے انداز میں بغل والی بیٹھ میں گھس گیا اور اخبارات کی ورق گردانی کرنے لگا۔
’’چائے پی لیجئے‘‘
تنویر چونک پڑا۔ سامنے نادرہ ٹرے لئے کھڑی تھی۔
’’مجھے معاف کرنا نادرہ میں نے تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔
نادرہ نے تنویر کے منہ پر ہاتھ رکھا۔
اور پھر دونوں ایک دوسرے بغلگیر ہوگئے اور غیر ارادی پر کھلکھلا کر نہیں پڑے، جیسے بچے گڈے گڈیوں کا کھیل رچاتے ہیں۔ روٹھتے بگڑتے اور پھر خود ہی اُس میں شیر وشکر ہوجاتے ہیں۔
سامنے دلاور کھڑا خدائے برحق کا شکر ادا کررہا تھا کہ گھر اُجڑ تے اُجڑتے بچ گیا۔
9906439491