editorial

اصــلاح

انسانیت کا تقاضا ہے کہ انسان نہ صرف دوسروں کے حالات سے باخبر رہے بلکہ ان کے بارے میں اپنا ذمہ دارانہ ردِعمل بھی ظاہر کرے۔ اگر ہمارے اردگرد ایسے لوگ موجود ہوں جو اخلاقِ حسنہ، اعلیٰ کردار اور بہترین اوصاف کے حامل ہوں تو ان کی صحبت میں رہ کر بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔ اور اگر کچھ افراد میں خامیاں پائی جائیں، تو ان سے تعلقات توڑ دینا مسئلے کا حل نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ان کی اصلاح کی کوشش کی جائے، کیونکہ اگر ہم واقعی سماج کی بھلائی چاہتے ہیں تو ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی اچھائی اور نیکی کی طرف راغب کرے۔ یہ سوچ لینا کہ ہم دوسروں سے بہتر ہیں، کسی طور خوبی نہیں بلکہ ایک بڑی کمزوری ہے۔ اپنی ذات کو کامل سمجھ لینے سے انسان خودستائی کا شکار ہوجاتا ہے، اور خودستائی اصلاح کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
اصلاح کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ اس سفر کا آغاز اپنی ذات سے کیا جائے۔ جب تک انسان خود کو سنوار نہیں لیتا، وہ دوسروں کو خیر و صلاح کی راہ پر گامزن کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ ہمیں ہمیشہ ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ بُرا آدمی چھوڑ دینے سے بُرائی ختم نہیں ہوتی، لیکن بُرائی کو مٹانے کی کوشش ضرور اسے کمزور کرتی ہے۔ یہی نیکی کا اصل ہنر اور اچھا انسان بننے کی حقیقی صلاحیت ہے۔