وادی کشمیر میں ٹھٹھرتی سردیوں اور کورنا قہر کے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ سے لوگوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے ۔ایک طرف وائرس اورسردیوں کی وجہ اس وبائی بیماری کی لپیٹ میں آنے کے ڈر کی وجہ سے کام کو محدود کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں دوسری طرف روز مرہ میں استعمال ہونے والے ضروری چیزوں کی قیمتوں نے ان کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے اور ہر طرف مہنگائی اور گراں بازاری نے لوگوں کو بددل کردیا ہے ۔تین برسوں سے کوروناوائرس کی وجہ سے کاروباری اور تجاری سرگرمیوں میں کمی ،صنعتوں میں خسارے اور بے روزگاری کی وجہ سے جو حالات پید اہوئے ہیں اس کی بھر پائی یا ان باہر آنے کے لئے سوچتے ہیں تو پھر کوروناکی لہر پلٹ کے آتی ہے جس سے تمام منصوبے اور پلان ماند پڑجاتے ہیں اور غریبی ومفلسی دن بہ دن بڑھ جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان حالات میں غریبی کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن اب غریب ہوکر بھی وہ لوگ اپنی ٹاٹھ باٹھ برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ حقیقت یہ ہے کہ وہ نان شبینہ کے محتاج ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وہ غریب ہیں لیکن سماجی نظروں میں اوسط درجہ ہونے کی بناء پروہ بھیک نہیں مانگ سکتے ہیں غریب تو وہ ضرور ہیں لیکن ان کو غریبوں میں گرداننا نہیں جاتا ہے ۔حالانکہ مہنگائی نے اس حد تک ان کو پہنچایا کہ وہ دن میں جو کماتے ہیں ان پیسوں سے وہ اپنے اہل وعیال کو دو وقت کی روٹی فراہم کرنے سے قاصر رہتے ہیں ۔سبزی یا دیگر اشیائے خوردنی ہو فی کلومیں ہر روز قیمتیں تبدیل ہوجاتی ہیں ۔غریب جائیں تو جائیں کہاں ؟اس سلسلے میں انہوں نے موجودہ انتظامی سرکار سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ قیمتوں کو اعتدال پر لانے کے لئے ٹھو س اور موثر اقدام اٹھائے اور ایسی کاروائیاں انجام دیں کہ کوئی اضافی ریٹ پر کوئی چیز خریدنے کی جرات نہ کرسکے ۔










