اشیائے خوردنی کی جانچ پڑتال کیلئے چیکنگ اسکارڈ کو متحرک کرنے اور مہنگائی پر قابو پانے کیلئے فوری طور اقدام اٹھانے کا مطالبہ
سرینگر// وادی کشمیر میں عرصہ دراز سے اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ یہاں اشیائے خوردنی کے بیشتر چیزوں میں ملاوٹ ہے ۔دودھ ،مشروبات اورآئس کریم وغیرہ میں ملاوٹ اور کمکلز سے مہلک بیماریاں بڑی تیزی سے پنپ رہی ہیں ۔ دودھ کے بجائے سفید زہر کھلایا جارہا ہے۔ مختلف دیہات سے سرینگر لانے جانے والے دودھ میں پائوڈر ملاکر لوگوں سے اصل دودھ کے دام وصول کئے جارہے ہیں۔حالانکہ آل کشمیر شیر گوجری ویلفیئر فورم سرینگر نے واضح طور پرایک ریٹ لسٹ ترتیب دیا ہے جس میں انہوں نے شیر فروشوں کیلئے قواعد وضوابط بھی وضع کئے ہیں جو اس طرح ہے کہ دودھ کامعیار3.5%to3Fatاور8.5%ہونالازمی ہے اوراس کے لئے قیمتیں مقرر کی گئی ہیں ۔غیر معیاری دودھ بیچنا قانوناً جرم ہے اور مقرر کردہ قیمت پر ہی دودھ بیچنالازمی ہے ۔ترازو یعنی الیکٹرانک ویٹنگ مشین کا مونیٹر صارف کی طرف رکھاجائے تاکہ وہ ازخود وزن کامشاہدہ کرسکے 10%ٹسٹ ویٹ اپنے تجارتی احاطے میں رکھیں تاکہ شک کی کوئی صورت میں صارف از خود (EWM)کی درستگی معائنہ کرسکیں ۔مقدار Volume جانچنے کے آلات محکمہ لیگل میٹرولوجی سے تسلیم شدہ ہونے چاہئے ۔ریٹ لسٹ دکان پر آویزان رکھنا لازمی ہے ۔دودھ فروشوں سے فورم کی جانب واضح ہدایات کے باوجود بھی لوگوں کے ساتھ ظلم کیا جارہا ہے اور بہت کم دودھ فروشوں نے اس ریٹ لسٹ اورہدایت نامہ کو دکانوں پر آویزان رکھا ہے ۔اگر اس ہدایت نامہ اور ریٹ لسٹ کے مطابق دودھ فروش عمل کریں تو صارفین کیلئے یہ کسی نعمت سے کم نہیں ہوگا ۔لیکن زمینی سطح پر اس کے برعکس دودھ کا کاروبار کیا جارہا ہے اور عوام پر یہ باور بھی ہوا ہے کہ دودھ کے بجائے پائوڈرپانی ملاکر پلایا جارہا ہے اور یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اب پوڈر کو پانی سے ملانے کیلئے واشنگ مشینوں کا بھی استعمال کیا جارہا ہے ۔اسی طرح حال ہی میں گوشت کے بارے میں اسکینڈلز کا پردہ فاش ہوا تب سے لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے حالانکہ یہ بہت پہلے سے ہورہاتھا لیکن اب کسی منصوبہ کے تحت انتظامیہ نے اس کی مخالفت میں اقدام اٹھانا شروع کردیا ہے اور اسکے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں اور لوگ اس سڑے ہوئے گوشت کے کباب ،رستے ،گوشتاب اور تکے وغیرہ کھانے سے اجتناب کرنے لگے ہیں۔تاہم مجموعی طور متعلقہ محکمہ جات کی غفلت شعاری کی وجہ سے عوامی حلقوں میں تذبذب کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔کشمیر پریس سروس کے مطابق غیرمعیاری ،زائدالمیعاد اشیاء کی خریدفروخت کے حوالے سے عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اوران کی تشویش ہے کہ کے خام دودھ اور دہی کے نام پر پاوڈر سے ملاوٹ کرکے لوگوں کو کھلائی جارہی ہے۔مشروبات میں ایسے کمکلز ہوتے ہیں جس سے لوگوں کے معدوں میں قوت ہاضمہ ختم ہوچکا ہے ۔ چکنگ اسکارڈ پوری طرح سے غائب ہوچکی ہے۔اس طرح سے وادی کشمیرمیں لوگوں کو اشیائے خوردنی میں ملاوٹ کرنے کوئی کسرباقی نہیں چھوڑی جارہی ہے۔شہر وقصبہ جات میں دہی 60 روپے اورشیرخام 50روپیہ کلو فروخت کیاجارہاہے جو ریٹ لسٹ کے مطابق قیمتیں ہیں لیکن یہ دہی اور شیر خام اصل میں ورکاپاوڈر ہے جولوگوں کوفروخت کی جارہی ہے بڑے شہراورقصبوں میں خام دودھ کے نام پرپاوڈر سے ملاوٹ والاآب فروخت کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جارہی ہے جب دودھ کے نام پر پانی فروخت ہورہاہوتو دودھ میں خود کفالت کرنے کے دعوے آسان ہے۔ عوامی حلقوںنے کہا کہ غیرمیعاری زائدالمیعاد اشیاء فروخت کرنے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں ہورہاہے اور انتظامیہ کی جانب سے کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں اٹھائے جارہے ہیں جبکہ انتظامیہ کے پاس آئے روز ایسی شکایات پہنچائی جاتی ہیں ۔جب ناانصافی کی کشتی بھر آتی ہے تب انتظامیہ متحرک ہوجاتی ہے لیکن اس وقت تک بہت کچھ ہوا ہوتا ہے ۔جس طرح سے سڑے ہوئے گوشت کو ضبط کرنے کی کاروائی شروع کردی گئی ہے جو بہت پہلے کرنی تھی ۔لوگوں کا تشویش ہے کہ ایک طرف ان کو اشیائے خوردنی کے نام پر زہر کھلایا جارہا ہے اور دوسری طرف ان اشیاء کی قیمتیں اتنی مہنگی رکھی گئی ہیں جو عام لوگوں کی قوت خرید سے بالکل برعکس ہے لیکن جان کر بھی انتظامیہ کی جانب سے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے ہر دن سورج طلوع ہونے کے ساتھ ہی مہنگائی میں اضافہ ہورہاہے۔اس ضمن میں عوامی حلقوں کی جانب سے موجودہ سرکاراورانتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ اشیائے خوردنی کی جانچ پڑتال کیلئے چیکنگ اسکارڈ کو متحرک کیا جائے اور مہنگائی پر قابو پانے کیلئے فوری طور اقدام اٹھائے جائے تاکہ لوگوں کی قیمتی جانوں کا زیاں ہونے سے بچ جائے اور لوگ بہ آسانی خریدوفروخت کرسکیں ۔










