سرینگر / /انسان کے کھانے پینے کے سامان اصلی اور قدرتی شکل میں دستیاب نہیں ہیں۔جبکہ اچھی صحت کیلئے اشیائے خورد ونوش کا اپنی قدرتی حالت میں ہونا ناگزیر ہے۔ اگر اچھی اور صاف ستھری غذائیں انسان کو فراہم ہوں تو صحت کے کیا کہنے؛ لیکن آج اچھی اور اصلی چیزیں انسانیت سوز حرکتوں کی وجہ سے اپنی اصلیت ومعنویت کھوچکی ہیں۔ خصوصاً غذائی اجناس میں ملاوٹ کا مسئلہ جس طرح خطرناک شکل اختیار کررہا ہے یہ بڑا ہی تشویشناک امر ہے۔ اشیاء خوردنی میں شاید ہی کوئی چیز ہو جو ملاوٹ سے پاک ہو، اشیائے خورد ونوش کے پیک ڈبوں پر لیبل اصلی کا چسپاں ہوتا ہے، لیکن اندر اس کا عْشر عَشیر بھی ہوتو غنیمت ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ مضر صحت اشیاء کھانے پینے کی چیزوں میں مل کر انسان کے جسم میں پہنچ رہی ہیں اور صحت کو گلارہی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ہوا اور پانی جیسی انسان کی بنیادی ضرورت کی چیزیں بھی اس ترقی کی دوڑ میں آلودگی کی زد میں آگئی ہیں، کہا جاتا ہے کہ صحت مند جسم میں ہی صحت مند دماغ ہوتا ہے، لیکن نقلی اور ملاوٹی اشیاء کے سبب نہ جسم صحت مندر رہا اور نہ ہی دماغ، ڈپریشن، بلڈپریشر جیسی بیماریوں کا بڑھنا اس کا بین ثبوت ہے۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ تفصیلات کے مطابق ملک کی دیگر ریاستوں و ممالک کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر میں اشیائے خوردنی میں ایسے کمکلز اور ناقص چیزیں ڈالی جاتی ہیں جس انسانوں کی صحت بُری طرح متاثر ہوتی ہے اور لوگ ایسی بیماریاں پنپ رہی ہیں جن کا آج سے تین چار دہائی پہلے کوئی تصور ہی نہیں تھا ۔اس ضمن میں سماج کے حساس لوگوں نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غذا ئی اجناس میں ملاوٹ کرنا انسانی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ ہے ۔انہوں نے کہا کہ حد تو یہ ہے کہ باہر سے برآمد ہونے والی سبزیوں یامیوہ جات کو پختہ کرنے کیلئے انجیکنشنز یا پاوڈر کا استعمال کیا جارہا ہے جو انسانی صحت کیلئے خطرہ ثابت ہوتے ہیں ۔حالانکہ ڈاکٹر صحت مند رہنے کیلئے میوے بشمول آم ،تربوزے ،سنترے ،کیلے وغیرہ لینے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن جب ان کی پختگی کی اصلیت سامنے آتی ہے تو اس سے صحتیابی ممکن نہیں ہے بلکہ اس سے مہلک بیماریاں پھوٹ کا خطرہ رہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پہلے پہل یہاں سبزیاں اگائی جاتی تھیں اور ان کا ذائقہ ایسا ہوتا تھا کہ لوگ صحت مند زندگی گذارتے تھے اور لطف اندوز ہوجاتے تھے لیکن اب ان سبزیوں میں بھی کھاد یا دیگر کمیکلز ڈالے جاتے ہیںجس سے وہ زہر ثابت ہوتے ہیں ۔اسی طرح ادویات میں بھی ملاوٹ نے انسانی صحت کو برباد کردیا ہے اور ایسی بیماریاں سامنے آتی ہیں کہ لوگ دھنگ رہ جاتے ہیں ۔ مجموعی طور اشیائے خوردنی ،سبزیوں اور میوہ جات جو انسان کی ضرورت بھی اور صحت مندی کیلئے لازمی بھی ہیں اور ان کے بغیر انسان کا جینا ،کھانا پینا گویا ہر چیز محال ہے لیکن ملاوٹ یہ چیزیں انسان کیلئے جان لیوا ہی ثابت ہوتی ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے سرکار سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اشیائے خوردنی ،سبزیوں اور میوہ جات کو خالص رکھنے کیلئے سنجیدہ نوعیت کے اقدام اٹھائے جائیں اور ملاوٹ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ انسانوں قیمتی زندگیاں محفوظ رہ سکیں اور صحت مند زندگی گذار سکیں گے ۔










