متبرک مقدس ایام میں وادی کے بازاروں میں اشیائی کھردنی اوردیگر سامان کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ راشن گھاٹوں پرصارفین کوصرف چاول چندکلو فراہم کئے جارہے ہیں کسی بھی راشن گھاٹ سے اے اے وائی زمرے سے تعلق رکھنے والے صارفین کوچینی جبکہ اے پی ایل بی پی ایل صارفین کوآٹافراہم نہیں کیاجارہاہے کیروسین اوئل وادی میں غائب ہوچکاہے دوردرازعلاقوں میں رہنے والے لوگ طرح طرح کے مشکلات سے دو چار ہوم ڈیلوری کاسسٹم وادی کے طول وارض میں ختم ہوگیاہے اور جہاں کئی بھی ہوم ڈلوری کی جارہی ہے وہاں گاہکوں کودودوہاتھوں سے لوٹاجارہاہے لاقانونیت عروج پرہے اور متعلقہ ادارے کی جانب سے جتنے بھی دعوے کئے جارہے ہیں وہ بے بنیادار کھوکھلے ہے نہ تو قیمتوں کواعتدال پررکھنے کے لئے ٹھوس بنیادوں پراقدامات اٹھائے جارہے ہیںاور نہ ہی ناجائزمنافہ خوروں کے خلاف سختی کے ساتھ کارروائیاں عمل میںلانے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے ۔ متبرک مقدس ایام میں بھی ناجائز منافہ خوروں کی کارروائیاں عروج پرہے سبزیوں کی قیمتیں آسمان کوچھورہی ہے مچھلیاں خریدنے کی کسی کوسکت نہیں گوشت 535اشیائی کھردنی کی قیمتوں میں سورج طلوع ہونے اور سورج ڈھلنے کے بعدہردن اضافہ ہورہاہے ریٹ لسٹ کہی بھی دکھائی نہیں دیتے ہے اورنہ ہی امورصارفین عوامی تقسیم کاری محکمہ کی جانب سے پرچون دوکانداروں کے لئے ریٹ لسٹ مرتب کئے گئے۔ ادھرعیدمیلادکے متبرک ایام شروع ہونے کے باوجود راشن گھاٹوں پرصارفین کو مقدار کے مطابق غذائی اجناس فراہم نہیں کئے جارہے ہے۔ اے اے وائی زمرے کے تحت آنے والے صارفین کاکہناہے کہ سرکار نے انہیں ہرماہ باقائدگی کے ساتھ ایک کلوگرام چینی فراہم کرنے کایقین دلایاتھا سال میں ایک بارراشن گھاٹوں پر اے اے وائی صارفین کوچینی فراہم کیاجاتاہے، جبکہ ۱ٓ ٹا کاکوٹہ آسمان کھاجاتاہے یازمین نگل جاتی ہے اس بارے میں متعلقہ ادارے کے ملازمین ہی جانکاری فراہم کرسکتے ہے ۔صارفین کے مطابق اے پی ایل اور بی پی ایل زمرے لے تحت آنے واے صارفین کوآٹا کسی بھی راشن گھاٹ سے فراہم نہیں کیاجاتاہے ،جبکہ 35کلوکے بجائے تیس کلوگرام چاول ہی صارفین کوفراہم کرنے کی کارروائیاں عمل میںلائی جاتی ہے۔ لوگوں کے مطابق کیروسین اوئل وادی میں نابود ہوچکاہے دور دراز علاقوں میں رہنے والے صارفین نے شکایت کی کہ ان علاقوں میں اکثروبیشتربرقی رو منقطع رہتی ہے اورلوگوں کوسورج ڈھلنے کے بعد گھروں میں روشنی جلانے کے لئے مٹی کے تیل کے بغیراورکوئی چارہ نہیں ہے تا ہم کیروسین ڈیلر فراہم کئے جانے والے کوٹے کی بلیک مارکیٹنگ کررہے ہیں سرینگر میں ہرماہ تین لاکھ سے زیادہ کیروسین اوئل کے لیٹرچوردروازے سے فروخت کئے جارہے ہے اگرچہ کئی بار یہ معاملہ امورصارفین عوامی تقسیم کاری محکمہ کی نوٹس میں لایا گیاتاہم متعلقہ ادارے نے اس شکایت کاکبھی بھی سنجیدہ نوٹس نہیں لیا۔










