سرینگر //دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ کے سرپرست مولانا محمد رحمت اللہ قاسمی نے کہا ہے کہ خودکشی اسلام میں حرام ہے ۔انہوں نے کہا کہ زندگی میں عارضی طور کسی قسم کے تنا ویا مشکلات کو حتمی ناکامی کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔کشمیر نیوز سروس کے ساتھ بات کرتے مولانا رحمت اللہ قاسمی نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کی زندگیوں میں مداخلت کرکے معاشرے میں پنپ رہی خودکشی کی اس لعنت کو روکنے کے لئے کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں کیونکہ خودکشی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ سنگین رخ اختیار کررہا ہے جو یقینی طور پر قابل توجہ معاملہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ والدین کو اپنے بچوں کی روز مرہ سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنی چاہیے جبکہ والدین کو یہ بھی جان لینا چاہیے کہ انکے بچوں کی زندگی میں روزانہ کیا رونما ہوتا ہے اور وہ کون سے محرکات ہیں جو بچوں کی جذبات کو بھڑکانے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سسٹم پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیں اور ساتھ ہی میں سسٹم سے جڑے ان تمام شخصیات کو متحرک رہنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کے این ایس کو مزید بتایا کہ کہ وادی میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات تشویش کا باعث بن چکے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے ہر ایک انسان کو ایک مقصد کے ساتھ پیدا کیا ہے اور کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے اپنی جان نہیں لے سکتا اور اسی لئے خودکشی کرنا اسلام میں حرام ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص خودکشی کرتا ہے تو اسلام نے یہ واضح ہدایت دی ہے کہ کوئی بھی شخص اُس کی آخری رسومات ادا نہ کرے تاکہ دوسرے لوگ اس گناہ کا ارتکاب کرنے سے باز آجائیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ زندگی کی ناکامیوں پر قابو پانے کے لئے خودکشی کا کوئی آپشن کبھی نہیں رہا ہے اور نہ ہی مشکلات کو حل کرنے کیلئے یا ان سے چھٹکارا پانا خودکشی کوئی حتمی حل نہیں ہے اور یہ اللہ تعالی کے قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ مولانا رحمت اللہ قاسمی نے کہا کہ معاشرے کا حصہ ہونے کے ناطے ہر ایک فرد کو اپنا کلیدی کردار ادا کرنا چاہئے اور ہر ایک انسان پر یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ان لوگوں کو مشورے دیں جو ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار رہے ہیں جبکہ سوسائٹی سے وابستہ تمام افراد کا یہ انسانی فریضہ ہے کہ وہ ذہنی تنائو میں مبتلا لوگوں کو ہر ممکن کونسلنگ کریں تاکہ وہ اس مشکل صورتحال سے نکل سکے ۔










