فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں بدامنی اور دائیں بازو کے اسرائیلی سیاست دانوں کے حساس مذہبی مقام پر جھڑپوں کےدوران ایک نوجوان سمیت دو فلسطینی جاں بحق ہوگئے۔مانیٹرنگ کے مطابق فلسطین کے وزارت صحت کا کہنا ہے کہ شمالی مغربی کنارے کے شہر نابلس میں قابض اسرائیلی فورسز کے حملوں کے دوران گولی لگنے سے 15 سالہ مہدی محمد حشش جاں بحق ہوگیا۔اسرائیلی فورسز کا کہنا ہے کہ ’وہ مقبرہ یوسف میں عبادت گزاروں کے داخلی راستے میں لوگوں کی حفاظت کے لیے وہاں موجود تھے‘، اس حساس مقام پر جھڑپیں اور تشدد عام ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جائے وقوع پر گولیوں کی آوازیں سنی جس کے بعد اسرائیلی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بم نصب کرنے والے دہشت گرد پر گولیاں چلائی تھی، اسرائیل فورسز نے 15سالہ مہدی محمد حشش کا براہ راست نام لیے بغیر کہا کہ ’ہم نے اس دہشت گرد کو گولیوں سے ہلاک کردیا‘۔فلسطینی ہلال احمر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 3افراد زخمی ہوئے تھے۔ فلسطینی صدر محمود عباس کی سیکیولر فاتح تحریک کے ایک ونگ الاقصیٰ شہداء بریگیڈز نے بیان جاری کیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ مہدی محمد حشش ان کا ساتھی ہے۔بعد ازاں 9نومبرکو اہل خانہ اور دوستوں نےمہدی محمد حشش کو سپرد خاک کردیا۔یہودی تنظیم کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے موجودہ قانون ساز اور یکم نومبر کو حلف اٹھانے والے نو منتخب ارکان سمیت 8اسرائیلی سیاست دان یوسف کے مقبرہ کا دورہ کررہے ہیں۔ان میں تجزیہ کار ہاک بینجمن نیتن یاہو کے دائیں بازو کی لیکود پارٹی کے ارکان اور انتہائی دائیں بازو کے مذہبی صیہونیت بلاک کے اتحادی شامل ہیں۔وزارت صحت نے بتایا کہ جنین شہر کے مغرب میں ایک الگ واقعہ میں اسرائیلی فورسزکی فائرنگ سے 29 سالہ رفعت عیسیٰ جاں بحق ہوا۔










