اساتذہ قابلیت ٹیسٹ سے متعلق کوئی نیا حکم جاری نہیں ہوا

اساتذہ قابلیت ٹیسٹ سے متعلق کوئی نیا حکم جاری نہیں ہوا

فوری نفاذ کی ضرورت نہیں، معاملہ کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے// سکینہ ایتو

سرینگر//یو این ایس// جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ ایتونے بدھ کے روز واضح کیا کہ ٹیچرز ایلیجیبلیٹی ٹیسٹ کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کوئی نیا حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا ہے اور فی الحال مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اس کے فوری نفاذ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے کہا کہ اگرچہ سپریم کورٹ نے ماضی میں ہدایت دی تھی کہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اساتذہ کے لیے ٹی ای ٹی لازمی قرار دیا جائے، تاہم جموں و کشمیر حکومت اس بات کا بغور جائزہ لے رہی ہے کہ دیگر ریاستوں اور یوٹیز میں اس ہدایت پر کس طرح عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ فائل موصول ہونے کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ پہلے دیگر علاقوں میں امتحان کے طریقہ کار، نظام اور عملی اثرات کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے تاکہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی فیصلہ لیا جا سکے۔سکینہ ایتو نے کہا کہ اس نوعیت کے اہلیتی امتحان کا تصور نیا نہیں ہے بلکہ مرحوم مفتی محمد سعیدکے دور حکومت میں بھی اس سمت میں سوچا گیا تھا، جب سابق وزیر تعلیم نعیم اخترنے آر ای ٹی فریم ورک کے تحت اقدامات شروع کیے تھے۔وزیر تعلیم نے زور دیا کہ جموں و کشمیر میں ایسے کئی اساتذہ ہیں جنہوں نے 25 سے 35 برس تک خدمات انجام دی ہیں اور نسلوں کی تعلیم و تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق ایسے اساتذہ کے مستقبل پر اثر انداز ہونے والا کوئی بھی فیصلہ انتہائی احتیاط اور سنجیدگی سے کیا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے خود اس معاملے میں دو سال کی مہلت فراہم کی ہے، اس لیے فوری نفاذ کی کوئی عجلت نہیں۔ ‘‘اگر پورے ملک میں اس پر عمل درآمد ہوتا ہے اور عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے مزید ہدایات موصول ہوتی ہیں تو ہم اس کا جائزہ لیں گے، لیکن فی الحال جموں و کشمیر میں کوئی فوری اطلاق نہیں ہو رہا،’’ انہوں نے واضح کیا۔سکینہ ایتو نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کے فوری نفاذ سے متعلق حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ حکم جاری نہیں کیا گیا ہے۔