ardugan

اردغان کی مسلم ممالک میں مضبوط ٹرانسپورٹ انضمام کی اپیل

مضبوط نظام کے ذریعہ قابل اعتماد نیٹ ورکس اسلامی دنیا کی اقتصادی صلاحیت کو بروئے کار لانے انتہائی ضروری

انقرہ/یو این آئی// ترکیہ کے صدر رجب طیب اردغان نے اسلامی تعاون تنظیم کے اراکین کے درمیان نقل و حمل کے نظام میں مزید مضبوطی اور یکجہتی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ موثر اور قابلِ اعتماد نیٹ ورکس اسلامی دنیا کی اقتصادی صلاحیت کو بروئے کار لانے کیلئے ضروری ہیں۔ استنبول میں جمعرات کو او آئی سی کے وزراء مواصلات کے اجلاس کیلئے بھیجے گئے ویڈیو پیغام میں، اردغان نے کہا کہ مسلم ممالک ایک وسیع جغرافیہ پر پھیلے ہوئے ہیں جو ایشیا سے افریقہ اور یورپ سے مشرقِ وسطیٰ تک محیط ہے ، اور ان کے پاس قدرتی راہداری، متحرک نوجوان آبادی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی مالی منڈیاں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاہم، اس عظیم صلاحیت کو مکمل طور پر بروئے کار لانے اور جغرافیائی فوائد کو اسٹریٹجک قوت میں تبدیل کرنے کیلئے ہمیں مؤثر، قابلِ اعتماد اور مربوط نقل و حمل کے نیٹ ورکس کی ضرورت ہے ۔صدر اردغان نے زور دیا کہ شاہراہوں، ریلوے ، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے درمیان مضبوط روابط نہ صرف تجارت کو فروغ دیں گے بلکہ رکن ممالک کے درمیان سماجی اور ثقافتی روابط کو بھی بڑھائیں گے ۔ ترکی کے حالیہ بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں، کہ جن میں مارمرائے ریلو ٹنل، یوریشیا ٹنل اور بڑے پل شامل ہیں، کا حوالہ دیتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ ملک نے عالمی تجارتی راستوں کو مضبوط کیا ہے اور ریلوے ، سمندری اور ہوابازی کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے ۔ صدر اردغان نے کہا کہ ٹرانس کیسپین مشرق-مغرب درمیانی راہداری منصوبے میں ترکیہ کے تعاون کے ذریعے ، ملک نے تاریخی شاہراہ ریشم کو ایک جدید نقطہ نظر کے ساتھ دوبارہ جانبر کیا ہے ۔ تاہم، ہم ان سرمایہ کاریوں کو محض قومی فریم ورک تک محدود نہیں سمجھتے ۔ ہمارا مقصد اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ یکجہتی اور روابط کو مضبوط کرنا، سرحد پار کوریڈوروں کو فروغ دینا، اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے اضافی قدر پیدا کرنا ہے ۔ صدر نے نوٹ کیا کہ کانفرنس کے دوران ہونے والی تعمیری مذاکرات نے اہم اقدامات کی راہ ہموار کی ہے ۔ صدر نے کہا کہ ہم نے رکن ممالک کے درمیان نقل و حمل کے روابط کو مضبوط کرنے ، بین الاقوامی فورمز پر یکجہتی بڑھانے ، اور ترکیہ کی (OIC) صدارت کے دوران مواصلاتی روابط اسٹریٹجی دستاویز تیار کرنے کیلئے ایک روڈ میپ بنانے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلاشبہ، ان فیصلوں کے مؤثر نفاذ کیلئے ضروری ہے کہ تکنیکی اجلاسوں میں خلل نہ ہو اور نگرانی کے میکانزم احتیاط کے ساتھ چلائے جائیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ آج ہم نے جو عزم ظاہر کیا ہے وہ اس راستے کو ہموار کرے گا۔