حکومت کی ڈیڈ لائن ختم، گمشدہ اور خستہ حال نقشے بحال نہ ہو سکے، اراضی مالکان پریشان
سرینگر/یو این ایس / مرکزی زیر انتظام خطہ جموں و کشمیر کے متعدد اضلاع میں گمشدہ اور خستہ حال مسویات (کڈاسٹرل نقشہ جات) کی ازسرِ نو تیاری کا عمل مقررہ مدت گزر جانے کے باوجود مکمل نہ ہو سکا، جس کے باعث ہزاروں اراضی مالکان کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومتی ہدایات اور ڈیڈ لائن کے باوجود کئی اضلاع میں یہ عمل تاخیر کا شکار ہے۔ محکمہ مال کی جانب سے جاری کردہ سرکلر میں تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی گئی تھی کہ گمشدہ اور خستہ حال مسویات کی تلاش اور دوبارہ تیاری کو یقینی بنایا جائے۔ سرکلر میں اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی تھی کہ بعض اضلاع میں تازہ ترین مسویات، جو فیلڈ میں استعمال ہو رہی ہیں اور جمعبندی سے مطابقت رکھتی ہیں، تاحال ڈیجیٹائز نہیں کی گئیں۔محکمہ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ جن دیہات میں مسویات دستیاب نہیں ہیں وہاں اراضی کی منتقلی سرکلر نمبر 08-JK(Rev) 2022 کی خلاف ورزی میں کی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں دو ماہ کی مہلت مقرر کرتے ہوئے خبردار کیا گیا تھا کہ عدم تعمیل کی صورت میں متعلقہ ریونیو دیہات میں اراضی کی منتقلی فوری طور پر روک دی جائے گی۔اس مقصد کے لیے ایک مفصل اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر بھی جاری کیا گیا تھا، جس میں گمشدہ یا خستہ حال مسویات کی فہرست سازی، ضلع اور تحصیل سطح پر خصوصی ٹیموں کی تشکیل، فیلڈ بکس، لتھا اور اکس شجرہ کی مدد سے ازسرِ نو تیاری اور زمینی تصدیق جیسے اقدامات شامل تھے۔ تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق کئی اضلاع میں یہ عمل ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔۔سال 2026 کے بجٹ اجلاس کے دوران اراکینِ اسمبلی نے اس مسئلہ کو اٹھایا، تاہم حکومت کی جانب سے صرف ازسرِ نو تعمیر شدہ مسویات کی جزوی تفصیلات فراہم کی گئیں۔ مقررہ مدت میں کام مکمل نہ ہونے کی وجوہات یا نئی ڈیڈ لائن کے بارے میں کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا۔مثال کے طور پر ضلع ادھمپورمیں حکومت نے اعتراف کیا کہ سیرا، پچونڈ اور کاگھوٹی جیسے دیہات کی لتھا/مسویات خستہ حال ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے متعلقہ تحصیلداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تجربہ کار ریٹائرڈ ریونیو اہلکاروں کو اعزازیہ بنیادوں پر تعینات کر کے گمشدہ یا خستہ حال نقشہ جات کی تیاری عمل میں لائیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سیرا میں 5 فیصد جبکہ کاگھوٹی میں 30 فیصد کام مکمل کیا گیا ہے، جبکہ دیگر اضلاع میں بھی اسی نوعیت کی صورتحال ہے۔ماہرین کے مطابق مسویات اراضی انتظامیہ کی بنیاد تصور کی جاتی ہیں اور یہ حد بندی، تقسیم، انتقال، حصولِ اراضی اور تصفیہ معاملات میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ جمعبندی اور زمینی نقشہ جات میں عدم مطابقت کی صورت میں حد بندی کے تنازعات، عدالتی مقدمات اور ہیرا پھیری کے الزامات جنم لے سکتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ ریونیو محکمہ نے دو ماہ کی مہلت مقرر کر کے اپنی ذمہ داری ادا کی، تاہم متعلقہ اضلاع میں مؤثر نگرانی نہ ہونے کے باعث متعدد دیہات میں یہ عمل مکمل نہ ہو سکا۔ خستہ حال یا پھٹے ہوئے مسویات کے باعث حد بندی اور فرد کے اجرا میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، جس سے ہزاروں اراضی مالکان متاثر ہو رہے ہیں۔دوسری جانب، 2014 میں قائم کی گئی کئی نئی انتظامی اکائیاں آج بھی عملے اور بنیادی ڈھانچے کی قلت کا شکار ہیں۔ سرکاری دعوؤں کے باوجود متعدد تحصیلیں تاحال عارضی انتظام کے تحت چلائی جا رہی ہیں اور مستقل عملے کی باضابطہ منظوری نہ ملنے کے باعث امورِ انتظامیہ متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی مقامات پر عمارتوں کی تعمیراتی سرگرمیاں بھی ہنوز جاری ہیں، جس سے عوامی خدمات کی فراہمی میں تاخیر برقرار ہے۔










