حالیہ دور میں ہر جانب سے یہ صدائیں بلند ہو رہی ہیں کہ معاشرے اور سماج میں بد اخلاقی و بد اطواری بے مہار صورت میں برابر بڑھتی جا رہی ہے۔ نہ بڑوں میں چھوٹوں کے لیے شفقت باقی رہی ہے اور نہ چھوٹوں میں بزرگوں کا لحاظ۔ بے ادبی اور بے مروتی نے اپنے بال و پر پھیلا کر سارے ماحول کو پراگندہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ خصوصاً نوجوانوں میں خود غرضی اور بد اخلاقی کا رحجان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
دیکھا جائے تو پچھلے چند برسوں میں بد اخلاقی اور بے مروتی نے تقریباً ہر چھوٹے بڑے گھرانے میں بسیرا کر لیا ہے، اور زیادہ تر اُن ذہنوں میں جڑ پکڑ لی ہے جو آدابِ اسلامی اور لوازماتِ انسانی سے محروم ہیں۔ مسلمان گھرانوں میں پیدا تو ضرور ہوئے، مگر صحیح معنوں میں اسلامی تعلیم و تربیت حاصل نہ کر سکے۔
دنیاداری کے چکر میں پڑ کر اکثر والدین نے مغربی طرزِ زندگی کو اپناتے ہوئے اخلاقیات پر زیادہ توجہ نہیں دی۔
کیا کریں، ترقی کا زمانہ ہے، “نئی روشنی“ کا دور دورہ ہے، اور دیکھا دیکھی و نمائش کا زمانہ ہے۔ واجبات کی طرف کبھی خاطر خواہ دھیان دیا ہی نہیں۔
قرآن میں ارشاد ہے:’’نماز تمام برائیوں سے روکتی ہے۔‘‘
جب ہم نے اس نماز کو فوقیت ہی نہ دی، اور سجدۂ معبودی میں خلوص کے ساتھ سر جھکایا ہی نہیں، تو برائیاں کیسے دور ہوں؟
یقین کر لیجیے کہ اگر ہم اسی غفلت کی راہ پر گامزن رہے تو یہ معمولی سا زخم آگے چل کر کینسر کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ ہم کوشش کریں کہ بداخلاقی کا یہ بدنما داغ اپنے دامن سے ہمیشہ کے لیے مٹا دیں۔










