سرینگر / /میوہ صنعت کے بعد یہاں اخروٹ کی صنعت مانی جاتی ہے اور اس صنعت کے ساتھ وادی کے بہت سارے لوگ وابستہ ہیں لیکن یہ صنعت گذشتہ کئی برسوں سے مسلسل خسارے کی شکار ہوئی ہے ۔اس ضمن میں اخروٹ صنعت سے وابستہ افراد نے بتایا کہ وہ اس صنعت کے ساتھ سال ہا سال سے وابستہ ہیں اور کئی سال قبل اس صنعت کی وساطت سے ان کی اقتصادی حالت بہتری ہوتی رہتی تھی اور ان کی صنعت کے ساتھ دلچسپی بڑھتی تھی لیکن کچھ سال سے اخروٹ اور گریوں کی قیمتوں میں حد درجہ کمی لائی جارہی ہے اورباہر بیوپاری من مانی قیمتیں لگا کر اس صنعت سے وابستہ افراد کو پریشان کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر گذشتہ برسوں میں پھر بھی اخروٹ اور گریوں کی ڈیمانڈ ابتدائی مرحلے میں کافی رہتی تھی لیکن امسال کوئی سامنے نہیں آتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس کے بنیادی وجوہات یہی ہیں کہ باہر کے بیوپاری من مانی قیمتیں مقرر کرکرتے ہیں جس سے یہاں کے بیوپار مال خرید نے میں ڈر محسوس کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اس وقت کونٹل ہا گریاں تیار ہیں جبکہ اخروٹ کی کھیپ بھی ہے لیکن قیمتوں میں نمایاں کمی کے باعث صنعت سے وابستہ کوئی شخص فروخت نہیں کرسکاتا ہے کیونکہ ان کو کئی گنا زیادہ قیمتوں پر درختوں سے ہی اخروٹ ملے ہیں اور اگر وہ خسارے پر ہی فروخت کریں لیکن یہ ایسا خسارہ ہے کہ ان کی حالت کافی حد تک ابتر ہونے کا خطرہ ہے ۔اس سلسلے میںا نہوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اخروٹ اور گریوں کی مناسب ومعقول قیمتیں سرکار ی سطح پر مقرر کی جائیں تاکہ ہر کوئی صنعت کار تباہ ہونے سے بچ جائے ۔










