سولیس انٹرنیشنل اسکول پلوامہ عدالت پہنچ گیا، 10 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ
سرینگر// یو این ایس// آکاش کوچنگ انسٹی ٹیوٹ، راجباغ سری نگر، ایک سنگین ساکھ کے بحران میں پھنس گیا ہے، جب سولیس انٹرنیشنل اسکول، پلوامہ نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے ادارے پر کلاس دسویں کے کشمیر ڈویژن ٹاپر، جس نے حالیہ بورڈ امتحانات میں سو فیصد نمبر حاصل کیے، کی کامیابی کو جھوٹے طور پر اپنے نام سے جوڑنے کا الزام عائد کیا ہے۔اہم عدالتی پیش رفت میں پرنسپل ڈسٹرکٹ جج پلوامہ نے ہتکِ عزت کے اس مقدمے کا نوٹس لیتے ہوئے آکاش انسٹی ٹیوٹ کو طلبی کا سمن جاری کر دیا ہے، جس کے بعد ادارے کے عوامی دعوے اور اندرونی کارکردگی براہِ راست عدالتی جانچ کے دائرے میں آ گئی ہے۔یو این ایس کے مطابق عدالتی ریکارڈ کے مطابق مذکورہ ٹاپر طالب علم تعلیمی سال 2024-25 کے دوران سولیس انٹرنیشنل اسکول کا باقاعدہ، فل ٹائم طالب علم رہا اور یہ شاندار نتیجہ مکمل طور پر اسکول کے تعلیمی نظام اور اساتذہ کی نگرانی میں حاصل کیا گیا۔ اسکول انتظامیہ نے آکاش انسٹی ٹیوٹ کے کسی بھی قسم کے تعلیمی تعاون کے دعوے کو بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔مقدمے میں واضح کیا گیا ہے کہ آکاش انسٹی ٹیوٹ کا کلاس دہم کی تیاری میں کوئی کردار نہیں تھا، اس کے باوجود ادارے نے عوامی سطح پر خود کو اس کامیابی سے جوڑ کر پیش کیا، جسے والدین اور طلبہ کو گمراہ کرنے اور تجارتی مفادات کے لیے تعلیمی کریڈٹ ہتھیانے کی دانستہ کوشش قرار دیا گیا ہے۔ یونائیٹڈ نیوز سروس نے عدالتی دستاویزات کا جائزہ لیا ہے، جن میں اس عمل کو شعوری تعلیمی جعل سازی کہا گیا ہے۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ طالب علم نے آکاش انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ نتائج کے اعلان کے بعد صرف کلاس گیارہ کی کوچنگ کے لیے لیا تھا، جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کلاس دہم کے نتائج سے متعلق ادارے کے تمام دعوے سراسر جھوٹے اور دانستہ طور پر گمراہ کن ہیں۔سولیس انٹرنیشنل اسکول نے اس طرزِ عمل کو ’’تعلیمی قزاقی‘‘ اور غیر منصفانہ تجارتی عمل قرار دیتے ہوئے عدالت سے 10 کروڑ روپے ہرجانے، آکاش انسٹی ٹیوٹ کو مستقبل میں ایسے دعوے کرنے سے روکنے کے لیے مستقل حکمِ امتناعی، نیز پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا میں عوامی معافی اور تصحیح شائع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔عدالتی دستاویزات کے مطابق 16 جنوری 2026 کو آکاش انسٹی ٹیوٹ کو قانونی نوٹس بھیجا گیا تھا، تاہم ادارے کی جانب سے نہ تو کوئی وضاحت دی گئی اور نہ ہی معافی یا تصحیح شائع کی گئی، جس کے بعد اسکول کو عدالتی کارروائی شروع کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔عدالتی مقدمے کے ساتھ ساتھ کشمیر میں آکاش انسٹی ٹیوٹ کی قیادت پر عوامی غصہ بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ مقامی لوگوں اور والدین نے ریجنل سینٹر ڈائریکٹر جنید یوسف کو بار بار سامنے آنے والے تنازعات کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ جنید یوسف کو متعدد شکایات باضابطہ طور پر پیش کی گئیں، تاہم ان پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ ان کے رویے کو غیر ذمہ دارانہ، تکبر آمیز اور عوامی شکایات سے لاپرواہ قرار دیا گیا ہے۔ لوگوں کے مطابق علاقائی قیادت کی اسی عدم جوابدہی نے مسائل کو مزید سنگین بنا دیا۔یو این ایس کے مطابق مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ آکاش انسٹی ٹیوٹ اب ایک سنجیدہ تعلیمی ادارے کے بجائے محض ایک تجارتی اشتہاری مرکز بن چکا ہے، جہاں عام لوگوں سے وصول کی جانے والی فیس کا بڑا حصہ جارحانہ تشہیری مہمات پر خرچ کیا جاتا ہے، جبکہ تعلیمی معیار ثانوی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔یہ تنازع گزشتہ برس بارہمولہ (سوپور) میں آکاش انسٹی ٹیوٹ کی شاخ سے جڑے الزامات کی یاد بھی تازہ کر رہا ہے، جہاں مالی استحصال، غیر اخلاقی طرزِ عمل اور گمراہ کن دعوؤں کے الزامات لگے تھے، جس سے یہ خدشہ مضبوط ہوتا ہے کہ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ ایک تسلسل ہے۔عوامی غصے میں اضافے کے پیش نظر مقامی لوگوں نے اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے اور والدین و طلبہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ جعلی کامیابیوں کے دعوؤں، جارحانہ تشہیر اور غیر جوابدہ انتظامیہ سے ہوشیار رہیں۔یہ معاملہ تاحال پرنسپل ڈسٹرکٹ جج، پلوامہ کی عدالت میں زیرِ سماعت ہے، جبکہ اس کیس نے نجی کوچنگ اداروں میں جعلی کریڈٹ، بے لگام کاروباری ذہنیت اور سخت احتساب کی فوری ضرورت پر ایک وسیع بحث چھیڑ دی ہے۔










