7دہائیاں پہلے جو غلطیاںکی گئیں ،ملک آج اُن کی سزا بھگت رہا ہے /وزیر اعظم
سرینگر/اے پی آئی// آپریشن سندور کے دوران دشمن کو چھٹی کا دودھ یاد دلانے کا عندیہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اگر ملک کے پہلے وزیر داخلہ کو اجازت دے دی گئی ہوتی تو آج ہمیں جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ، 7دہائیاں گزر جانے کے باوجودہم ملک کے پہلے وزیر اعظم کے گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔ بھارت نے پچھلے ایک دہائی سے بین الاقوامی سطح پر اپنی ایک چھاپ چھوڑ دی ہے اور آج دنیا میں بھارت کی بات کو سنا اور مانا جاتا ہے ۔ اے پی آئی نیوز کے مطابق ملک کے پہلے وزیر داخلہ اور نائب وزیر اعظم کو اُن کے 150ویں تاریخ پیدائش پر دوسرے دن بھی خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بھارت دنیا کا طاقتور ممالک میں سے ایک ابھر کر سامنے آیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ آج بھارت کی بات مانی اور سنی جاتی ہے ۔ وزیر اعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے 12برسوں کے دوران سرکار نے کئی سخت فیصلے لئے جو ملک کے عوام کے مفاد میں تھے ۔ 370،35Aکا خاتمہ ، رام مندر کی تعمیر ، تین طلاق کو مرکزی حکومت کی حوصلیابیاں قرار دیتے ہوئے انہوںنے کہا کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے حکومت نے جو اقدامات اٹھائے وہ کسی سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ انہوںنے کہا کہ بیسرن پہلگام میں ہمارے 26کے قریب نہتے شہریوں کو جب گولیوں سے بوند کررکھ دیا گیا تو ہم نے دہشت گردی کی اعانت کرنے والوں کو اُن کے گھر میں گھس کر انہیں چھٹی کا دودھ یاد دلایا ۔ وزیر اعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر سردار ولب بھائی پٹیل کو 1947میں اجازت دی گئی ہوتی تو انہوں نے اُسی وقت جموں وکشمیر کو ملک میں ضم کردیا ہوتا ۔ تاہم ملک کے پہلے وزیر اعظم آنجہانی پنڈت جوہر لعل نہرو کی غلطیوںکا ہم ساتھ دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک ترقی کے راہ پر گامزن ہے اور سردار پٹیل کا خواب ہم شرمندہ تعبیر کررہے ہیں ۔انہوںنے کہا کہ 2047تک بھارت دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں جہاں شامل ہوگا وہیں ہم دنیا کی دوسری مضبوط ومستحکم معیشت بھی بن جائیں گے ۔










