rajnath singh

آپریشن سندور سے ثابت ہوا کہ دیسی دفاعی نظام ہندوستان کی آپریشنل تیاری کیلئے مضبوطی کا ضامن

بھارت،یورپی یونین دفاعی صنعتوں کو عالمی استحکام کے لیے اشتراک مضبوط بنانا ہوگا:راجناتھ سنگھ

سرینگر/یو این ایس// وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران مقامی طور پر تیار کردہ دفاعی نظاموں کے مؤثر استعمال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہندوستان کی آپریشنل تیاری مضبوط ہو رہی ہے اور ملک دفاعی خود انحصاری کی سمت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میںخود انحصاری اب صرف پالیسی نہیں بلکہ قومی ذہنیت بن چکی ہے اور اس تاریخی تبدیلی میں ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کا کردار نہایت اہم ہے۔یواین ایس کیمطابق وزیر دفاع ڈی آر ڈی او کے بہترین کارکردگی دکھانے والے سائنسدانوں اور تکنیکی ماہرین سے خطاب کر رہے تھے جنہیں یوم جمہوریہ پریڈ دیکھنے کے لیے خصوصی مہمان کے طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران ڈی آر ڈی او کی تیار کردہ ٹیکنالوجی کو میدان جنگ میں مؤثر طریقے سے استعمال کیا گیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہندوستانی دفاعی تحقیق عالمی معیار تک پہنچ رہی ہے۔راج ناتھ سنگھ نے موجودہ ٹیکنالوجی پر مبنی دنیا کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کوئی بھی نئی ٹیکنالوجی چند برسوں میں غیر مؤثر ہو سکتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم صرف ’’فٹ ترین کی بقا‘‘ نہیں بلکہ ’’تیز ترین کی بقا‘‘ کے اصول پر آگے بڑھیں۔انہوں نے کہا’’جو ملک تیزی سے سوچتا ہے، فیصلہ کرتا ہے اور ٹیکنالوجی کو بروقت میدان میں اتارتا ہے، وہی عالمی سطح پر برتری حاصل کرتا ہے۔‘‘انہوں نے ڈی آر ڈی او کے سائنسدانوں کو جدت، رفتار اور رسک لینے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ تحقیق میں ناکامی بھی سیکھنے کا ذریعہ ہوتی ہے اور ادارے کو ایسے شعبوں میں بھی کام کرنا چاہیے جہاں کامیابی کے امکانات کم نظر آتے ہوں، کیونکہ اگر کامیابی مل جائے تو وہ تاریخی ہوگی۔وزیر دفاع نے زور دیا کہ ریسرچ سے پروٹوٹائپ، پروٹوٹائپ سے ٹیسٹنگ اور ٹیسٹنگ سے تعیناتی کے درمیان وقت کم کیا جانا چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ’’مسلح افواج میں بروقت شمولیت ہماری کارکردگی کا سب سے بڑا پیمانہ ہونا چاہیے۔‘‘یو این ایس کے مطابق انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ڈی آر ڈی او کو صنعتوں کے ساتھ کو،ڈیولپمنٹ ماڈل اپنانا چاہیے تاکہ ڈیزائن سے لے کر پیداوار تک صنعت کو ابتدا ہی سے شامل کیا جا سکے، جیسا کہ کئی ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔یو این ایس کے مطابق راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ڈی آر ڈی او کو اب روایتی دائرے سے نکل کرپبلک سیکٹر، پرائیویٹ کمپنیوں، ایم ایس ایم ایز، اسٹارٹ اپس اور جامعات کے ساتھ وسیع تعاون کرنا ہوگا۔انہوں نے لائٹ کامبیٹ ایئرکرافٹ تیجس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ڈی آر ڈی او اور ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کے اشتراک نے ایک بڑی کامیابی کو جنم دیا، اور ایسے کئی مزید کارنامے ممکن ہیں اگر تعاون کے اس ماڈل کو مزید وسعت دی جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی حمایت اسی وقت بامعنی ہوگی جب ڈی آر ڈی او ایک اجارہ دار تحقیقی ماڈل سے نکل کر مشترکہ تحقیقی ماحولیاتی نظام کو اپنائے گا۔وزیر دفاع نے انکشاف کیا کہ 2014 میں جہاں دفاعی برآمدات ایک ہزار کروڑ روپے سے بھی کم تھیں، وہ آج بڑھ کر تقریباً **24 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ 2029-30 تک دفاعی برآمدات کو 50 ہزار کروڑ روپے تک لے جایا جائے۔انہوں نے ڈی آر ڈی او پر زور دیا کہ وہ ڈیزائن کے مرحلے سے ہی برآمدی منڈیوں کو مدنظر رکھے، خصوصا ڈرون ٹیکنالوجی، ریڈار سسٹمز، الیکٹرانک وارفیئر، اسلحہ و گولہ بارود شامل ہیں۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ڈی آر ڈی او کی اصل طاقت اس کے سائنسدان، انجینئرز اور تکنیکی ماہرین ہیں۔ انہیں سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں اور قیادت کی ذمہ داریاں بھی دی جانی چاہئیں تاکہ ان کی صلاحیتیں مکمل طور پر نکھر سکیں۔اس موقع پر وزیر دفاع نے ڈی آر ڈی او ایوارڈ اسکیم 2024 کے تحت مختلف سائنسدانوں کو اعزازات سے نوازا۔ادھر نئی دہلی میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس سے ملاقات کے دوران کہا کہ بھارت اور یورپی یونین کے دفاعی شعبوں کو عالمی بھلائی کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ دونوں خطے جمہوریت، تکثیریت اور قانون کی حکمرانی جیسے اقدار میں مشترک ہیں، اور دفاعی تعاون ان اقدار کو عملی شکل دینے کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔کاجا کالاس نے بھارت کے یوم جمہوریہ کی تقریبات میں شرکت کو اعزاز قرار دیا اور کہا کہ بھارت اور یورپی یونین کو بحر ہند کے خطے میں مل کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے بھارتی بحریہ کے انفارمیشن فیوڑن سینٹر میں یورپی یونین کے لائڑن آفیسر کی تعیناتی کی تجویز کا خیر مقدم کیا۔