editorial

آٹو رکشا والوں کی من مانی

وادی کشمیر کی سرمائی راجدھانی سرینگر میں دیگر قصبہ جات اور دیہات کی نسبت سے آٹو رکشا سروس دہائیوں سے چل رہی ہے لیکن آٹورکشاڈرائیور ہمیشہ سے من مانی کرکے عام مسافروں کو لوٹنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ہیں کیونکہ کرایہ کیلئے ان کو سرکاری طور کوئی پابندی عائد نہیں ہے بلکہ وہ بے لگام ہوکر من مانی طور مسافروں سے کرایہ وصولنے میں مصروف عمل رہتے ہیں ۔اس سلسلے میں شہر کے مختلف علاقوں میں آٹو رکشا میں سوار ہونے والے مسافروں نے بتایا کہ وہ آٹو رکشا ڈرائیوروں کی من مانیوں سے تنگ آچکے ہیںاور خوفزدہ بھی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دوکلومیڑ پر آٹو رکشا ڈرائیور 70روپے سے کم نہیں لیتا ہے اور مسافت کی دوری کو طے کرنے کیلئے ڈھائی تین سوروپے کا تقاضا کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں سے آنے والے مسافر جن کو مکمل ایڈرس پر پہنچنے کیلئے راستہ معلوم نہیں ہوتا ہے ان کو راستہ دکھانے کے بجائے ٹھگنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ہیں ۔ایک مسافر کا کہناتھا کہ لالچوک یا بٹہ مالو تک سومو سروس پر مکمل طور پابندی ہیں اب شمالی کشمیر کے مسافر وں کو پارمپورہ یا ٹینگہ پورہ سے لالچوک آنا پڑتا ہے اورآٹورکشا والے 9کلومیٹر کی مسافت پرتین سو روپے لینے کا تقاضا کرتے ہیں اور شام دیر گئے اس سے زیادہ بھی طلب کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ آٹو رکشا ڈرائیوروں کا رویہ ہی بنا ہوا ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسر کشمیر سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آٹورکشائوں کے لئے باضابط طور روٹوں اورمسافت کی بنیاد پر کرایہ مقرر کیا جائے تاکہ عام بالخصوص دیہی علاقوں سے آنے والے مسافروں کو لوٹنے کا آٹوڈرائیوروں کو موقعہ فراہم نہیں ہوگا ۔