mashi

آج ملک معاشی بحران اور عوام ذہنی اذیت کا شکارہے

قیصر محمود عراقی

ملک کے عام شہری اس وقت اگر سیاست سے متنفر ہیں یا سیاست دانوں پر بھروسہ نہیں کر تے تو اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ وہ جا نتے ہیں کہ سیاست داں صرف ووٹ لینے کے لئے چاپلوسی کر تے ہیں لیکن منتخب ہو نے کے بعد وہ طاقت کا مرکز و محور عوام یا ان کے منتخب اداروں کو سمجھنے کی بجائے طاقت کے دیگر مراکز کی طرف رجوع کر تے ہیں ۔
تر قی کا دعویٰ کر نے والی موجودہ حکومت اور ملک کے سیاست دانوں کی ملکی خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا،کیونکہ انہوں نے اپنی ملکی خدمات کے نام پر مہنگائی اور بے روز گاری سے ہمارے نوجوانوں کے چہروں کی رونقیں چھین لی ہیں ۔ حالات لمحہ بہ لمحہ کسی خطرناک موڑ کی سمت بڑھ رہے ہیں ۔ آزادی سے لے کر ابھی تک عوام منزل تک پہنچنے کا راستہ تلاش کر رہی ہے ۔ آج عوام یہی سوچ رہی ہے کہ ہم نے تبدیلی کے نام پر اس لئے ووٹ دیئے کہ ہمارے ملک میں خوشحالی آئے گی ، اوپر سے لیکر نیچے تک ہر چیزیں تبدیل ہو جا ئے گی، ہر سرکاری دفتروں میں بہتری آئے گی ۔ لیکن یہ کیا کہ آج ملک معاشی بحران اور عوام ذہنی اذیت کا شکارہے ، مہنگائی نے کمر توڑ کر رکھدی ہے ، ہر فرد غیر یقینی کی حالت میں زندگی گزار رہا ہے، ہر کوئی دو وقت کی روٹی پوری کر نے کی فکر میں لگا ہے ، آج ہندوستان کا ہر شہری جس جانب بھی دیکھتا ہے ، نا امیدی ہی نظر آتی ہے ،ان حالات میں لوگ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے ہیں ، لیکن ہمارے ملک کے حکمران اقتدار کے مزے لے رہے ہیں ، انہیں عام آدمی کے سنگین تر ین حالات کا کوئی اندازہ نہیں ۔ موجود ہ حکومت اور ان کے نمائندے کہنے کو تو عوام کی نمائندگی کر تے ہیں مگر حقیقت میں انہیں ان کیڑے مکوڑوں سے کوئی مطلب نہیں بلکہ ان کا مقصد آقائوں کی خوشی اور مفادات کو یقینی بنانا ہے ۔
آج غریب عوام کو بڑے بڑے فلسفے سنانے والے لیڈر خود محلوں میں رہتے ہیں یہ حقیقی مشکلات سے نا آشنا ہیں ، انہیں آرام و ٓسائش کی زندگی میسر ہے، انہیں کسی غریب کی حالت زار کا بالکل اندازہ نہیں ،عوام کو پچہتر سال سے بے وقوف بنایا جا رہا ہے اور آج بھی بن رہی ہے ۔ آج ہندوستان کا ہر شہری بلا امتیاز مذہب و ملت گو نا گوں مسائل میں مبتلا ہے ۔ ان کے سامنے کئی مشکلات ہیں ، طرح طرح کی پریشانیاں ہیں ، زندگی کے کئی مسائل ہیں ۔کوئی روزگار کے نہ ہو نے کا رونا رو رہا ہے ، کوئی بیمار ہے تو کسی کو غربت نے گھیرا ہوا ہے ۔ کوئی کاروبای مسائل کے باعث پریشان ہے ۔ زندگی ہے کہ مسائل سے بھری پڑی ہے اور کوئی سکون ، چین اور اطمینان میسر نہیں ، آج سب سے بڑا مسئلہ پیٹ کا ہے ، روزگار کا ہے ، ہر شخص روزگار کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے ، وہ تلاشِ روزگار میں کبھی کسی لیڈر کے پاس ، کبھی کسی وزیر کے پاس ، کبھی کسی آفیسر کے پاس ، کبھی کسی کے در کی ٹھوکر کھاتا ہے تو کبھی کسی کے در پر حاضری دیتا ہے ۔ ہر در کی ٹھوکر یں کھا کر مایوس ہو کر پھر قسمت کا لکھا سمجھ کر رو دھو کر بیٹھ جا تا ہے یا جھنجھلا کر اپنا سر پیٹ کر رہ جا تا ہے یا پھر حالات کے خونی دھارے کی لہروں سے دلبرادشتہ ہو کر خودکشی پر مجبور ہو جا تا ہے ۔ ( اخبارات بھرے پڑے ہیں اس قسم کے واقعات سے ) بہتری کی امید کی کوئی صورت بر نہیں آتی ۔ تمام تر کوششوں اور محنتوں کے باوجود بھی عوام ناکام ہیں ۔ ہر جگہ ، ہر محاذ پر شکست و ریخت سے دوچار ہیں ۔
الغرض ہمارے ملک کا سب سے بڑ ا مسئلہ معاشی بد حالی ہے ، اس کے لئے معاشی استحکام کی اشد ضرورت ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ملک میں سیاسی استحکام ہو گا لیکن نریندر مودی جو بد قسمتی سے ہمارے ملک کے وزیر اعظم ہیں انہیں اس بات کا بالکل ادارک نہیں ہے ۔ آپ کسی بھی دیناوی کا میاب لیڈر کی زندگی سامنے رکھ لیں غریب کی غریبی مٹانے کا نعرہ لگا نے والا ہی نامور ٹھہرتا ہے ۔ چلیں ! ہم تاریخ کے ابواب نہیں پلٹتے اور ماضی قریب میں ہی جھانک لیتے ہیں ۔ جیسا کہ سبھی جانتے ہیں کہ نریندر مودی آج بھی عوام الناس میں مقبول ہیں کیونکہ انہوں نے اقتدار میں آتے ہی سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ دیا تو ہندوستان کے طول و عرض پر چھا گئے اور اسی دن سے بھاراتیہ جنتا پارٹی کہیں نہ کہیں حکمرانی کر رہی ہے ۔
محترم قارئین ! موسمِ بہار کی یہ خصوصیت ہے کہ یہ اپنے دامن میں بے تحاشا خوشیاں اور رونقیں لے کر آتا ہے جس سے چہروں پر مسکراہٹوں کا دور دورہ شروع ہو جا تا ہے ، پر ندے بھی وجد میں آ جا تے ہیں اور دن بھر چہچہاہٹ میں گذار کر خوشی و مسرت کا ظہار کر تے ہیں ، پھولوں کی رنگیناں بھی ناظرین کو اپنی طرف مائل کر تے ہیں ، صبح کی ٹھنڈی ہوا ئیں دل و دماغ کو معطر کر کے پرُ سکون بنا دیتی ہیں ۔ ادیبوں کا قلم بھی جنبش میں آکر تصورات و تخلیات کی دنیا میں گم ہوجا تا ہے اور موسم بہار پر لکھنا ان کا پسندیدہ موضوع بن جا تا ہے ۔ شعرا کی زبان پر تو ایسا گمان ہو تا ہے کہ شاید ان کی زبان اسی واسطے پیدا کی گئی ہے کہ صرف بہار پر گویائی کر نی ہے ۔
غرض موسم بہار فرحت و سرور کا سامان ہے جو انسانی چہروں پر مسکان و تبسم لاکر مسرور بنا دیتی ہے ۔لیکن صد افسوس کہ آج موسم بہاراں میں بھی چہروں پر شادمانی نظر نہیں آ رہی ہے ، افسردگی و پریشانی چہروں پر چھائی ہو ئی ہے ، دل غم سے نڈھال ہے لیکن داستان غم کون سنے ، چہروں سے دکھ کی یہ پر چھائیاں کون دور کرے ؟ ہر کوئی اقتدار کے نشے مگن ہے ، ان کو غریبوں کی آہ و فغاں کہاں سنائی دیتی ہے ، وہ تو ایسی عالی شان کو ٹھیوں میں سکونت پذیر ہیں جہاں تک رسائی تو در کنار اس کا تصور کر نا بھی غریب عوام کے بس کا کام نہیں ۔ اگر سچ کہیں تو لیڈران پر ہر وقت بہار رہتی ہے ان کو غریب کے خزاں سے کیا واسطہ ؟ وہ کیسے غریب کے مسائل کا ادراک کر سکینگے جو خود تو ہزاروں لاکھوں کا لبا س پہنتے ہوں اور غریب کا گزرانِ زندگی پھٹے پُرانے کپڑوں میں ، غریب تو اس امید و آس پر صبح کرتا ہے کہ شاید آنے والا دن میرے لئے یہاں رہنے اور مجھ سے غمیں اور مصیبتیں دور کر کے شادماں بنا دے ، لیکن یہ صبح عنقا ہو چکی ہے ۔ وہ کتنا اچھا زمانہ تھا کہ حاکم وقت بھیس بدلکر کوچوں میں پھرتا تھا اور غریبوں کی حالتِ زار دیکھکر اپنے کندھوں پر ان کے لئے رسد لے کر آتا تھا ۔ لیکن پتہ نہیں ہمارے حکمرانوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ اقتدار کے نشے میں اتنے محو ہو گئے ہیں کہ ان کے کانوں کو غریب کی آہ و بکا نہیں لگتی ۔ کیا غریب عوام اس ملک کا شہری نہیں؟ کیا اس نے ملک کی آزادی میں کردار ادا نہیں کیا ہے ؟ کیا ملک کی تعمیر و ترقی میں اس کا فعال کردار کسی کے آنکھوں سے اوجھل ہے ؟ اگر نہیں تو پھر ہمارے ارباب اقتدار کیوں اتنے سنگدل بن چکے ہیں کہ وہ ناچاروں کی حالت بہتر بنانے کے لئے اپنی ذمہ داریوں سے روگر دانی بر تتے ہیں ۔ الیکشن سے پہلے تو ہر کوئی غریب کا ہمدرد ہو تا ہے اور ایسی خوشنوما و دلفریب تقریروں سے عوام کا دل بہلاتا ہے کہ صرف کرسی پر بیٹھنا ہے اور ساری دنیا کی سہولیتیں اپنے قدموں میں ڈالنا ہے ،ہر کوئی اپنے جیب بھر نے کی فکر میں سرگر داں ہے ۔
آج ملک کے حالات سدھرتے نہیں دکھائی دیتے بلکہ مسائل جوں کے توں ہیں ۔ غریب تو اس ارمان پر زندگی جی رہا ہے کہ کبھی تو ہمارے حکمرانوں کو ہوش آئے گا اور ملک کو تر قی پر گامزن کر کے ساری دنیا کے لئے ماڈل بنا ئینگے ۔ لیکن ہمارے حکمرانوں میں اتنی سکت نہیں ہے کہ ملک کو کندھوں پر اُٹھا کر بامِ عروج تک پہنچا دیں ، وہ تو اپنی انانیت میں مست ہیں جو کرسی کے معاملے میں کسی کو بر داشت کر نے کے لئے تیار نہیں ۔ اصل میں بات یہ ہے کہ حکمراں یہ نہیں چاہتے کہ ملک کے ناتواں عوام کی حالت بہتر ہو جا ئے کیونکہ پھر ان سیاست دانوں کے آگے پیچھے نعرے لگانے والے نہیں ہو نگے ۔ موجودہ حکومت میں امن و امان کی صورتِ حال خراب ہے ، قانون ایک مذاق بن گیا ہے، جس کا دل چاہتا ہے اس سے آسانی سے کھیل سکتا ہے آج لالچی اور کرپٹ سیاست داں اپنے ہی ملک اور عوام کو نقصان پہنچاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نیک کام کر رہے ہیں ۔ بات دراصل یہ ہے کہ ہماری عوام کی سب سے بڑی خامی یہ رہی ہے کہ یہ ہمیشہ شخصیت پرست رہے ہیں اور جنہیں ووٹ دیتے ہیں اُن کے کردار قول و فعل کو بالکل در گزر کر دیتے ہیں یہی وجہہ ہے کہ ملک کے حالات خراب ہو چکے ہیں ۔
بہر حال اب عوام کو حقیقت کی جانب آجا نا چاہیئے ، ہمیں ہوش کے ناخون لینے ہو نگے ، یہ کھربوں روپئے لوٹ کر اربوں الیکشن پر لگاتے ہیں اور پھر لوٹ مار کے لئے ہم پر مسلط ہو کر ہماراخون چوستے ہیں ، جیتنے والا اقتدار کے مزے لوٹتا ہے ، ہارنے والا دھاندلی کا شور مچا کر نہ صرف اپنی ہار کوجیت میں بدلنے کی کوشش کر تا ہے بلکہ مک مکا کر کے ذاتی مفادات کا حصول ممکن بناتا ہے ۔ آخر ہم لوگ کب تک ان کے آلہ کار بن کر زندگی گذارینگے ، لہذا ہمیں اپنی سوچ کے زاویوں کو بدلنا ہو گا ، تنقید کی بجائے اصلاح کی جانب بڑھنا ہو گا ،منا فقت کے لبادوں سے نکل کر حق رائے دہی کا درست استعمال کر نا ہو گا ، ہمیں کرپٹ لوگوں کی نہ صرف نشاندہی کر نا ہو گی بلکہ ان کا محاسبہ بھی خو د ہی کر نا ہو گا ۔ اپنے لوگوں میں درست کا انتخاب اور کرپٹ کو ووٹ دینے سے انکار کر نا ہو گا ۔ اب یہ انکار ہی ہماری بقا اور ملک کی تر قی کا باعث بن سکتا ہے ، یہ لمحہ فکر یہ ہے ۔ ہمیں اس سمت سوچنے کی ضرورت ہے۔