editorial

آبی ذخائر کا وجود ختم

جنوبی کشمیر میں آبی ذخائر ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں کے علاوہ جانوروںکو بھی پینے کیلئے پانی دستیاب نہیں ہے۔جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ د، قاضی گنڈ، شوپیاں ، پلوامہ اور کولگام میں پانی کی بہتات تھی اور لوگوں کو کبھی بھی پانی کی عدم دستیابی کا سامنا نہ کرنا پڑتا تھا تاہم آج صورتحال مختلف ہیں یہاں کے لوگوں کو اب پانی کی کافی کمی کا سامنا ہے ۔ جنوبی کشمیر میں سراور آبی ذخائر موجود تھے اور ندی نالوں اور کنالوں کی بہتات تھی لیکن خود غرض لوگوں نے اپنے مفاد کی خاطر ان کنالوں پر ناجائز طریقے سے قبضہ جماکر ان پر مکانات ، دیواریں اور دیگر تعمیرات کھڑا کررکھی ہیں ۔لوگوں نے آبی ذخائر کو مٹی کی برائی سے بھر کر ان پر ناجائز قبضہ جمایا ہے ۔ اگرچہ سرکاری ریکارڈ میں آج بھی ان کنالوں ، کاہچرائی اور دیگر آبی ذخائر کا رقبہ اصل صورت میں موجود ہے تاہم محکمہ اری گیشن و فلڈ کنٹرول اور محکمہ مال اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آبی ذخائر اور کاہچرائی پر ناجائز قبضہ کرنے والے اثرورسوخ رکھنے والے افراد نے متعلقہ محکمہ جات کے افسران اور عملہ کی جیبیں پہلے ہی گرم کرکے رکھی ہے جس کی وجہ سے ملازمین ایسے افراد کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرپارہے ہیں اور اگر کسی شکایت کے موصول ہونے کے بعد کہیں پر کارروائی عمل میں لاکر قبضہ چھڑایا جاتا ہے تاہم وہ کارروائی محض لوگوں اور میڈیا کو دکھانے کیلئے ہوتی ہے اور دوسرے دن اراضی پر پھر سے قبضہ کیا جاتا ہے ۔ آبی ذخائر کے لفت ہونے کی وجہ سے لوگوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کو بھی پانی کی عدم دستیابی کا سامنا ہے ۔ اور مویشوں کو پینے کیلئے پانی دستیاب نہیں ہوتا ۔