شہری ہلاکتوں اور کشیدگی میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار، سفارتکاری کے ذریعے بحران حل کرنے پر زور
سرینگر/یو این ایس / بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایران کے صدر مسعودپزش کیان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں مغربی ایشیا کی سنگین صورتحال اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر اعظم مودی نے خطے میں کشیدگی کے بڑھنے، شہریوں کی ہلاکتوں اور شہری انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال نہایت سنجیدہ ہے اور اسے قابو میں لانے کے لیے فوری طور پر سفارتکاری اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔وزیر اعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بیرون ملک مقیم بھارتی شہریوں کی سلامتی اور تحفظ بھارت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کی فراہمی اور تجارتی سامان کی بلا رکاوٹ ترسیل بھی بھارت کے لیے نہایت اہم ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں حالات کشیدہ ہیں۔یو این ایس کے مطابق وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘‘ایکس’’ پر ایک پیغام میں کہا کہ انہوں نے ایرانی صدر سے گفتگو کے دوران خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور کشیدگی میں اضافے، شہری ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان پر گہری تشویش ظاہر کی۔سرکاری بیان کے مطابق ایرانی صدر نے گفتگو کے دوران ایران میں موجودہ صورتحال اور حالیہ علاقائی پیش رفت کے بارے میں وزیر اعظم مودی کو آگاہ کیا اور اپنا نقطہ نظر بھی پیش کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ آئندہ بھی ایک دوسرے سے رابطے میں رہیں گے۔قابل ذکر ہے کہ ایران نے اہم بحری راستے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے، جو عالمی تجارت اور خصوصاً بھارت کی توانائی درآمدات کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھا جاتا ہے۔اطلاعات کے مطابق دو روز قبل ایک تیل بردار جہاز، جو بھارت کی جانب رواں تھا، پر ایرانی فورسز نے فائرنگ کی جب وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ادھر حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ اس کارروائی میں ایران کے سپریم لیڈر گزشتہ ماہ ہلاک ہو گئے تھے۔جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں، جن میں دبئی اور دوحہ جیسے اہم عالمی تجارتی اور فضائی مراکز بھی شامل ہیں۔اس بحران کے پیش نظر وزیر اعظم مودی گزشتہ دس دنوں کے دوران خطے کے متعدد رہنماؤں سے رابطے میں رہے ہیں جن میں امان،کویت، بحرین،سعودی عرب،قطر،اسرائیل،متحد عرب امارات،اردن شامل ہیں۔انہوں نے ان ممالک پر حملوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی مذمت بھی کی۔ ساتھ ہی ان ممالک میں مقیم بھارتی برادری کی سلامتی اور بہبود کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خلیجی اور مغربی ایشیائی خطے میں تقریباً ایک کروڑ بھارتی شہری مقیم ہیں، جن میں سے لگ بھگ دس ہزار افراد ایران میں جبکہ چالیس ہزار سے زائد اسرائیل میں رہتے، تعلیم حاصل کرتے یا کام کرتے ہیں۔










