وزیر خار کی ایرانی وزیر خارجہ سے بات، بحری جہازوں کی سلامتی اور توانائی سکیورٹی پر تبادلہ خیال
سرینگر/یو این ایس // وزیر خارجہ ایس جے شنکرنے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں جاری حملوں کے تناظر میں بحری جہازوں کی سلامتی اور توانائی کی سپلائی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔یہ معلومات وزارت کارجی امور کے ترجمان جیسوال رودھرنے جمعرات کو ایک پریس بریفنگ کے دوران دیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان تین مرتبہ گفتگو ہو چکی ہے جس میں خاص طور پر جہاز رانی کے محفوظ راستوں اور بھارت کی توانائی سکیورٹی پر بات ہوئی۔واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمزتجارتی جہازوں پر متعدد حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یہ آبی راستہ ایران اور امان کے درمیان واقع ہے اور عالمی تیل تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔وزارت خارجہ کے مطابق اس وقت ایران میں تقریباً 9 ہزار بھارتی شہری موجود ہیں جن میں طلبہ، بحری ملازمین، کاروباری افراد، پیشہ ور افراد اور زائرین شامل ہیں۔ حکام نے بتایا کہ متعدد بھارتی شہری، خاص طور پر طلبہ، ایران سے واپس بھارت پہنچ چکے ہیں جبکہ تہران میں موجود بعض افراد کو ملک کے محفوظ علاقوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ترجمان کے مطابق بھارت ایران میں موجود اپنے شہریوں کی مدد کر رہا ہے اور جو لوگ واپس آنا چاہتے ہیں انہیں زمینی راستے سے آزربیجان اور آرمنیاکے راستے سفر کرنے میں ویزا اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ادھر عراق میں بھارتی سفارتخانے نے عراق کے قریب پیش آنے والے ایک بحری حادثے کی بھی تصدیق کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ویشنو سفیسانامی ایک امریکی ملکیت کے خام تیل بردار جہاز، جو مارشل ائی لینڈکے جھنڈے تلے چل رہا تھا، پر بصرہ کے قریب حملہ ہوا جس میں ایک بھارتی عملے کا رکن ہلاک ہو گیا۔بھارتی سفارت خانے کے مطابق جہاز پر موجود دیگر 15 بھارتی عملے کے ارکان کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔بھارت نے اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے دوران تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا جانا انتہائی افسوسناک ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں جن میں بھارتی شہری بھی شامل ہیں جبکہ حملوں کی شدت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔بھارت نے مزید کہا کہ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف علاقائی امن کے لیے خطرہ بن رہی ہے بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی پر بھی اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں موجود بھارتی شہریوں کی سلامتی کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے، جبکہ سفارتی سطح پر بھی مختلف ممالک کے ساتھ رابطے برقرار رکھے جا رہے ہیں تاکہ سمندری راستوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے اور کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں تیز کی جا سکیں۔










